قابل رشک اور اطمینان سے بھر پور زندگی کا حسن اور دلکشی وہ خوبیاں ہیں جن پر نازاں ہوا جاتا ہے۔ یہ قابل فخر اور قابل تقلید زندگیاں رضائے الہی اور صبرو شکر کا مرقع اور منبع کہلاتی ہیں۔ امیر المومنین امام علی فرماتے ہیں اللہ کریم کی رضا پر راضی رہنا کامل ایمان کی علامت ہے اور صبر کی بابت قرآن کریم کااعلان ہے'' اللہ پاک صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے'' صبر و شکر کے انمول اور لازوال مناظر ان لمحات میں دیکھے جاتے ہیں جب آپ سے کوئی نعمت واپس لے لی جائے یا کسی مضبوط رشتہ کی ڈوری ٹوٹ جائے۔ ایسے ماحول میں صابر اور شاکر صاحبان قرب الہی کا سبب بنتے دیکھے جاتے ہیں۔ 26 دسمبر 2022 ء کی شب میرے برادر اکبر حکیم سید محمد حسین سہارن پوری کی اہلیہ مختصر علالت کے بعد خالق حقیقی کی جناب میں پیش ہو گئیں۔طبعیت کی خرابی وجوہ، تشخیص اور علاج کی تدابیر سب کی سب دھریں رہ گئیں۔ وہ اگلی صبح آسودہ خاک ہوئیں۔2022 جاتے جاتے سہارن پوری خاندان کو محبوب رشتے کی جدائی کا جو زخم دے گیا اس کی کسک تا دیر محسوس کی جاتی رہے گی۔ بھابھی کی ناسازی طعبیت سے آخری سانسوں تک اور رحلت سے سپر د خاک تک ہم نے بھائی کو صبر اور رضائے الہی پر راضی رہنے والے پہاڑ کے حوصلے کی مانند دیکھا۔ یقیناً مصیبت اور آزمائش پر صبر کا پرچم بلند کرنے والے اجروانعام کے مستحق ہوتے ہیں اب دعائیں اور نیک خواہشات رہ گئی ہیں اللہ کریم مرحومہ کو کروٹ کروٹ جنت کا حسین مقام عطا کرے اور سوگواروں کو صبر اور اجر کا مستحق بنا دے' آمین یقینا محبوب اور اپنائیت سے بھرپور رشتوں کی جدائی کو خاندان بھر میں محسوس کیا جاتا ہے والدین کے بعد ہماری بھابھی محترمہ نے خاندانی روایات کا چراغ جس طرح روشن رکھا اس کی مثال خال خال دیکھی جاتی ہے۔ ایک دوسرے کا احساس ' مہمان نوازی' مستحقین کی اعانت ،ضرورت مندوں کی خاموش خدمت' رقم بطور قرض دینا اور پھر قرضہ کو معاف کر دینا یہ مرحومہ کا معمول تھا ۔ رمضان کریم میں اڑوس پڑوس میں افطاری کی تقسیم کو انہوں نے خود پر واجب کررکھا تھا یہ اور اس جیسے حسین اعمال کے باعث وہ ہمیشہ دعائیں اپنے دامن میں سمیٹی رہیں یہ درست ہے کہ نیک ارواح اپنی جدائی سے قبل اشاروں میں اہل خانہ کو بہت کچھ بتا دیتی ہیں بلکہ سمجھا دیتی ہے۔ بھابھی جان نے ابھی '' رخصتی'' کا خواب بتا کر ہمیں ذہنی طور پر تیار کر دیا خواب ہماری زندگی کا لازمی حصہ ہیں بہت سے خواب آنے والے وقتوں اور مستقبل کی منزلوں کا پتہ دیتے ہیں۔ ہم نے کئی بار دیکھا اور سنا جب خواب سنانے والوں نے اپنی روانگی کے اشارے بلکہ اطلاع دی ہو۔ یہ محبوب بندگان خدا کے کرشمے اور کرامات سے جڑیں باتیں ہیں۔ امام محمد بن سیری کو خواب کی تعبیر بتانے میں ملکہ حاصل تھا تاریخ میں ایک انمول واقعہ ان کی عظمت وحشمت کی شہادت کے ساتھ رقم ہے، حضرت امام مالک کو خواب میں زیارت رسولۖ کا شرف حاصل ہوا۔ سر محفل کرم اتنا میری سرکارۖ ہو جائے نگاہیں منتظر رہ جائیں اور دیدار ہو جائے تجھے منظور ہے پردہ' مجھے پاس ادب ورنہ میں جب چاہوں' جہاں چاہوں تیراۖ دیدار ہوجائے خواب میں رسول مکرمۖ نے اپنا روشن اور چمکدار دست مبارک دکھایا آپ بیدار ہوئے اور خواب کی تعبیر جاننے کے لیے بے قرار ہوگئے ۔ آپ نے کسی عزیز کے ذریعے امام محمد بن سیری سے تعبیر بتانے کے لیے رابطہ کیا خواب سن کر امام سیری کا تاریخی جواب تھا کہ یہ خواب امام مالک کے سوا کوئی اور نہیں دیکھ سکتا ۔خواب میں رسول پاکۖ نے بتایا تھا کہ رزق اولاد اور موت جیسی پانچ ایسی چیزیں ہیں جن کا علم اللہ پاک کے سوا کسی کو نہیں۔ استحارے اور خواب کی تعبیر بنانے والے خدمت اور عظمت کے چراغ روشن رکھ کر اپنے بزرگوں کا نام زندہ رکھتے ہیں تاہم ایسی شکایات بھی عام ہیں جب کچھ نامراد اور سرسری تعبیر علم کے حامل افراد لوگوں اور خاندانوں کو مس گائیڈ کرتے ہیں اللہ کریم ہم سب کو خدمت اور احساس کی توفیق عطا فرمائے ' آمین
149