اپنی پسند کا آدھا سچ ,تیھٹر میں  431

اپنی پسند کا آدھا سچ ,تیھٹر میں 

سرراہ دانش کدہ کے متلاشی سے ملاقات ہوئی وہ بولے بابا ہم تو انسان ہیں ہم میں دوہرا معیار کیوں ؟ کوئی قانون سے کیھلتا ہے کوئی قانون کے کھلواڑ سے محفوظ نہیں ,کسی نے سرراہ قانون کےآگے سرخم کیا, کسی نے ہجوم میں مذاق اڑا رہا  لگتاہے مذاق اڑانے والے کو معلوم ہے کہ قانون ماضی میں جانبداروں کے ہاتھوں غلط استعمال ہوا , قانون کا ترازو الٹا رہا سب انصاف بہہ گیا, شاید ترازو ویسا ہو ,حالانکہ ترازو الٹا کرنے والے سب کردار الٹ گے ہیں-
دانش کدہ ارے! ہم تو تخلیق کار کی بہترین تخلیق تھے جسے بڑے مان سے تخلیق کیاگیا تھا پھر اپنی بڑی مارکیٹ میں آزاد کاروبار کی اجازت دے دی گئ اپنے سے جڑنے کے راستے بتائے گئے ,لوگوں نے من پسند راستے چن لیے خیر سب کی چاہت ایک جیسے نہیں ہوتی مگر ضروریات ایک جیسی ضرور ہوسکتی ہیں ہم  تو خواہش کے بغیر ادھورے ہیں, خواہشات ہماری بقا کی نشانی ہے, باقی کچھ لوگ خاموشی سے فیصلہ کرتے ہیں, کچھ  لوگ صرف فاصلہ رکھتے ہیں ,کچھ لوگ صرف اپنے مفادات کے لیے آقاؤں سے رابطہ رکھتے ہیں اور باقی  کچھ لوگ سب واسطہ رکھتے ہیں, خاموشی سے فیصلہ وہ کرتے ہیں جو خود کو طاقتور سمجھتے ہیں جن کے اشاروں پر سات بجے سے رات گیارہ بجے تک مختلف چینلوں پر تیھٹر لگا رہتا ہے وہ لوگوں میں بڑے لوگوں کا جھوٹ بیچتے ہیں سچ کو چھپاتے ہیں, مسائل سے لوگوں کی توجہ ہٹاتے ہیں لوگوں کو اپنی باتوں میں لبھاتے ہیں لوگوں کی غلط ذہن سازی کرتے ہیں جس طرح ماضی میں غلط بیانیوں سے کام لیا جیسے انہیں ان کے آقا کہتے رہے یہ وہی تیھٹر پر اپنی پسند کا آدھا سچ بولتے رہے طاقتور لوگوں کو خوش کرتے رہے اور ان کی خوشنودی کے لیے خود کو داغ دار کرتے رہے طاقتور لوگوں کا خیال ہے کہ 
ہمارے بس میں ہوتا ہے سب کو بے بس کرنا اور اپنا بس چلانا جیسے کہ ماضی میں انہوں نے ریاست ماں کے ساتھ کھلواڑ کیا, ایسا ڈرامہ رچایا گیا جیسے تیھٹر میں اسٹیج ڈرامہ پیش کیا جاتا تھا,شہاب جعفری یہ شعر ان اداکاروں کے نام ہے جہوں نے ماضی میں بابا ڈیم گروپ کے ساتھ مل کے اسٹیج ڈرامہ لگایا- 

تو ادھر ادھر کی نہ بات کر یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹا 

مجھے رہزنوں سے گلا نہیں تری رہبری کا سوال ہے

یہ تو تھے فیصلہ کرنے والے باقی کچھ فاصلہ رکھتے ہیں ان میں کچھ تاجر حضرات , کچھ سفید پوش ,کچھ تنخواہ دار جنہیں کسی سے کوئی سروکار نہیں یہ کسی کی پرواہ نہیں کرتے سب سے زیادہ ٹیکس یہی  ادا کرتے ہیں سب سے زیادہ ریاست ماں کے ساتھ وفاداری یہی نبھاتے ہیں -
 آقاؤں سے رابطہ رکھنے والوں میں زیادہ تر بدعنوان لوگ ہیں نااہل لوگ ہے, ٹیکس چور لوگ , اقرباپرور لوگ, سیاسی پیرا شوٹر لوگ اور جو ماضی, حال اور مستقبل کے اقتدار پر نظر رکھتے ہیں ہائے بدنصیب یہ لوگ اقدار نہیں رکھتے ,ان طبقات میں سب شامل ہیں (ج, ج, ص, س, ب وغیرہ) 

ایک ہنستی ہوئی بدلی دیکھی 

ایک جلتا ہوا گھر یاد آیا 

سب سے واسطہ رکھنے والوں میں ریاست ماں کی مفلس, بدحال, باصلاحیت, باکردار, بااخلاق محبت و پیار کی مستحق اولاد ہے جو ملکی تعمیر, ترقی کی تکمیل میں مصروف عمل ہے جو روٹی, روزی کے لیے ایڑھیاں رگڑ رہی ہے جنہوں نے ہر مشکل کا سامنا کیا ہرطرح کی قربانی دی, تقسیم کے وقت ریاست ماں کے لیے پیاروں کو قربان کیا ,آج بھی وہی لوگ قربانی دے رہےہیں اس طبقے سے سوال ہے ؟
اپنی لگام کب تک بے رحم لوگوں کے ہاتھ میں دوگے خدا را اپنے مفاد پرست لوگوں سے جان چھڑاؤ, اپنی بہتری کے لیے اپنی جیسے لوگوں  جو میدان میں لاؤ, رشوت خور, بدعنوان لوگوں کو لگام دو, لوگوں کی غلامی کرنا چھوڑ دو ,آپ نے سب کو دیکھا اب وقت آگیا ہے ملک کے ساتھ کھڑے ہوجاؤ ملک کے محافظوں کے ساتھ کھڑے ہونے کا شخصیت پسندی ترک کرو ,
آپ نے جن سے امیدیں وابستہ کی ہوئی ہیں یہ لوگ اپنی مرضی کا آدھا سچ آپ تک پہنچاتے ہیں وہ بھی جب اقتدار سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں, پھر تیھٹر پر مختلف ڈرامہ رچانے والے لوگ خریدتے ہیں اور ریاست ماں کی مفلس اولاد کے جزیات سے کیھلتے ہیں -

بشکریہ اردو کالمز