اللّٰہ تعالیٰ کے بے حساب انعامات 279

اللّٰہ تعالیٰ کے بے حساب انعامات

سارے جہانوں کے خالق اور مالک نے اپنے بندے سیّد ابوالاعلیٰ مودودی کو نیک فطرت، ذہن رسا، قلم کی بےمثال طاقت، استدلال کی لاجواب قوت، اپنی آخری کتاب اور اَپنے دینِ حق کی قابلِ رشک تفہیم اور کلمۃ الحق بلند کرنے اور اُس کی خاطر سر دھڑ کی بازی لگانے کا عزم اور صلاحیتیں عطا کیں۔ وہ اَورنگزیب عالمگیر کے آباد کئے ہوئے شہر اورنگ آباد میں 1903ء میں پیدا ہوئے۔ اپنے والد سے زیردستوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کا سبق سیکھا اور اَپنے عہد کے قرآن و حدیث، عربی زبان، فلسفے اور منطق کے مستند اساتذہ سے فیض حاصل کیا۔ 1935ء میں ماہنامہ ترجمان القرآن جاری کیا جس کے مضامین سے حکیم الاُمت ڈاکٹر محمد اقبالؔ بہت متاثر ہوئے۔ 1937ء میں انڈین کانگریس نے ہندوستان کے سات صوبوں میں وزارتیں قائم کیں جن کے ذریعے مسلمانوں کا مذہب، اسلامی ثقافت اور اِسلامی حمیت ختم کرنے کے بدترین حربے استعمال کئے۔ اُن سازشوں کو بےنقاب کرنے، مسلم قومیت کا شعور بیدار کرنے اور تحریکِ پاکستان کو فکری بنیادیں فراہم کرنے میں سیّد ابوالاعلیٰ مودودی نے زبردست کردار اَدا کیا۔ اِس کی گواہی قائدِاعظم کے پرسنل سیکریٹری اور بعدازاں پاکستان کے وزیرِخارجہ جناب شریف الدین پیرزادہ نے اپنی تصنیف Evolution of Pakistan (پاکستان کا ارتقا)

میں دی۔ اِسی طرح آل انڈیا مسلم لیگ کے نیشنل گارڈ کے سالار اَور قائدِملت نوابزادہ لیاقت علی خاں کے معتمد خاص نواب صدیق علی خاں نے اپنی کتاب ’’بےتیغ سپاہی‘‘ میں تحریر کیا ہے کہ مولانا مودودی اپنے ماہنامہ ترجمان القرآن میں آل انڈیا مسلم لیگ کی پُرزور تائید کرتے رہے۔ ہم اُن کا یہ احسان کبھی فراموش نہیں کر سکتے۔ 3 جون 1947ء کو تقسیمِ ہند کا اعلان ہو گیا جس میں یہ بھی طے پایا کہ صوبہ سرحد میں ریفرنڈم کرایا جائے گا کہ وہاں کے عوام پاکستان میں شامل ہونا چاہتے ہیں یا بھارت میں۔ اُس نازک موقع پر صوبہ سرحد کے ایک باشندے نے مولانا سے خط کے ذریعے رہنمائی چاہی۔ اُنہوں نے جواب میں لکھا کہ اگر مَیں صوبہ سرحد میں رہ رَہا ہوتا، تو میرا ووٹ پاکستان کے حق میں جاتا۔ مولانا کا وہ خط سہ روزہ ’’کوثر‘‘ کے 5 جون کے شمارے میں شائع ہوا۔

مولانا مودودی 30؍اگست 1947ء کو دارالاسلام (پٹھان کوٹ) سے پاکستان آئے اور پورے پچاس برس چند اعلیٰ مقاصد کیلئے شب و روز جدوجہد کرتے رہے۔ اُن سب میں الحمدللہ بڑی کامیابی ہوئی۔ اُنہوں نے کفر اور الحاد کے پُرفتن ماحول میں ایک ایسا لٹریچر تخلیق کیا جس کے مطالعے سے مسلمانوں کا تعلیم یافتہ نوجوان طبقہ اسلام کا شیدائی ہوتا اور اِسلامی انقلاب کا داعی بنتا گیا۔ مولانا کی تحریر میں ایسی دلکشی اور ذہن کو مسخر کرنے والی ایک ایسی تاثیر تھی کہ امریکہ میں اُن کے ایک کتابچے کے مطالعے سے ہزاروں امریکی فوجی مسلمان ہو گئے۔ اُن کے لٹریچر اور اُن کی مجاہدانہ عظمت نے علما کے طبقے میں حدتِ فکر پیدا کی۔ اُن کی تفہیم القرآن اور اُن کا تیارکردہ اِسلامی لٹریچر مختلف زبانوں میں ترجمہ ہو کر اَمریکہ، یورپ، روس اور دُنیا کے دوسرے ملکوں میں ذہنی انقلاب برپا کر رہا ہے اور بڑی تعداد میں لوگ اسلام کی حقانیت پر ایمان لا رہے ہیں۔ شاہ فیصل کے عہد میں اسلام کی غیرمعمولی خدمات بجا لانے والوں کیلئے نوبل پرائز کی طرز پر ایوارڈ دینے کا سلسلہ شروع ہوا۔ اِس مقصد کیلئے فیصل فاؤنڈیشن قائم ہوئی۔ اُس نے پہلا ایوارڈ سیّد ابوالاعلیٰ مودودی کی خدمت میں جنوری 1969ء میں پیش کیا۔سیّد ابوالاعلیٰ مودودی کی بےلوث جدوجہد کا دوسرا مقصد اسلام کے احیا کے ساتھ ساتھ اُسے ایک مکمل نظامِ حیات کے طور پر پیش کرنا تھا، چنانچہ اُنہوں نے قرآن و حدیث، فقہا اور مفکرین کے بیش قیمت ذخیرے سے اسلام کے نظامِ زندگی کی ایک مکمل اور ذہنوں میں اتر جانے والی تصویر تیار کی۔ اسلام کے اخلاقی، سیاسی، معاشی، معاشرتی اور بین الاقوامی تعلیمات جیسے موضوعات سے متشکل یہ ریڈیائی تصویر ریڈیو پاکستان سے پانچ تقریروں میں نشر ہوئی جو سیمیناروں اور عالمی سطح پر غور و فکر کا عنوان بنی رہی۔ اُن علمی کاوشوں کا یہ نتیجہ نکلا کہ پاکستان میں بڑے سے بڑا منصب دار اَپنی تقریر کا آغاز اِس جملے سے کرتا کہ اسلام ایک مکمل نظامِ حیات ہے۔ عوام کے اندر اِسلامی دستور کا شعور اِس قدر گہرا ہوتا گیا کہ ہر دستور قراردادِ مقاصد کی روشنی میں تیار ہوا۔ جناب حسین شہید سہروردی جیسے سیکولر سیاست دان اور مسٹر بھٹو جیسے سوشلسٹ لیڈر اِسلامی دستور کے سامنے سرنگوں ہوتے گئے۔

مولانا سیّد ابوالاعلیٰ مودودی کی ژرف نگاہی نے بہت پہلے ہی بھانپ لیا تھا کہ جہاد کے نام پر مذہبی انتہاپسندی پروان چڑھ سکتی ہے، اِس لئے اُنہوں نے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں طاقت کے استعمال پر کڑی پابندیاں عائد کی تھیں۔ اُن کا مؤقف تھا کہ جہاد کا اعلان کرنے کا حق صرف ریاست کو پہنچتا ہے۔ اُنہیں اپنے اِس مؤقف پر قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں لیکن آج اُن کے مؤقف کی تائید اہلِ سیاست بھی کرتے ہیں ، عسکری قیادت بھی اور بالغ نظر علمائے کرام بھی۔ مولانا بدامنی، ہلڑبازی اور طاقت آزمائی کے شدید مخالف اور امن و سلامتی کے عَلم بردار تھے اِسی لئے اُنہوں نے طاقت کے بل بوتے پر قائم ہونے والی آمریتوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور تبدیلی کیلئے جمہوری طریقوں پر اعتماد کیا۔ وہ اِس امر پر بھی یقین رکھتے تھے کہ معاشرے میں امن و امان قائم رکھنے کیلئے اسلامی سزاؤں کا نفاذ ناگزیر ہے۔ پاکستان کے چیف جسٹس جناب اے۔آر کارنیلیٔس مولانا کے اِس نقطۂ نظر سے کامل اتفاق کرتے تھے۔ اُن کا تعلق عیسائیت سے تھا مگر وہ اِسلامی سزاؤں اور اِسلامی آئین کی افادیت کے بہت قائل تھے۔ مولانا آسٹریلیا میں ایک بین الاقوامی کانفرنس میں مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے گئے تو اُنہوں نے دنیا کے چوٹی کے قانون دانوں کے سامنے اسلامی سزاؤں کی اہمیت پر نہایت فکرانگیز مقالہ پڑھا جس پر نہایت سنجیدگی سے غوروخوض کیا گیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مولانا کی عظمت دنیا پر اجاگر ہوتی جا رہی ہے۔ (جاری ہے)

بشکریہ ہم سب