آدھا گلوب ٹرمپ کا 414

آدھا گلوب ٹرمپ کا

حالات حاضرہ پر کیا کہیں، یہی کہ 
ٹرمپ سے کس کو رستگاری ہے، 
آج وہ کل فلاں کی باری ہے۔
ٹرمپ نے وینزویلا کے دارالحکومت کراکس پر کمانڈو دھاوا بول کر ایوان صدر سے صدر مارودو کو ایسی آسانی سے اٹھا لیا کہ اتنی آسانی سے ہمارے ملک کے غیرت مند سورما دوسروں کی بہو بیٹی کو بھی کیا اٹھا پاتے ہوں گے۔ صرف صدر ہی کو نہیں، ان کی اہلیہ کو بھی اٹھا لیا اور صدر کی محافظ ٹیم کے ایک سو افراد کو بھی مار ڈالا اور ’’کرامات‘‘ دیکھئے کہ حملہ آور ٹیم کا ایک بھی آدمی مارا نہیں گیا۔ مارا جانا دور کی بات، زخمی بھی نہیں ہوا۔ تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو۔ 
اندر کی بات البتہ یہ بھی ہے کہ یہ سب امریکی کمانڈرز کی کرامات کا معاملہ نہیں ہے، وینزویلا کی فوج اور صدر کے محافظ دستوں کے اندر سے غداری بھی ہوئی، پیسے دے کر بہت سوں کی وفاداری خرید لی گئی۔ ع: 
صدرم فروختند وچہ ارزاں فروختند 
____
اس انوکھی ’’فتح‘‘ سے ٹرمپ کا اکڑا ہوا سر اور بھی اکڑ گیا ہے اور اب وہ ایسے ہی کمانڈو ایکشن کی دھمکیاں ایران، کیوبا، کولمبیا اور میکسیکو کو بھی دے رہا ہے۔ کہہ رہا ہے، تمہارے صدر بھی اسی طرح اٹھا لیں گے۔ البتہ میکسیکو کو اضافی دھمکی دی ہے کہ اس کا کچھ کرنا پڑے گا، اس سے نمٹنا پڑے گا۔ 
میکسیکو ٹرمپ کے دل کا بہت بڑا کانٹا ہے۔ ٹرمپ کا خیال ہے کہ میکسیکو کی سرحد عبور کرکے بہت سے ہسپانوی نڑاد امریکہ آ جاتے ہیں اور امریکہ کا گورا چٹا تشخص رنگ دار کرتے ہیں۔ اسی لئے اس نے بارڈر پر دیوار کھڑی کر دی۔ لیکن اس کا خیال ہے کہ اس کے باوجود رنگ دار ہسپانوی امریکہ میں بدستور آ رہے ہیں۔ پہلے ہی ان کی تعداد چار کروڑ ہے، کئی کروڑ افریقی نڑاد اور بہت سے ایشیائی ملکوں سے آ گئے ہیں، یوں امریکہ پہلے کی طرح گورا چٹا نہیں رہا، گدلا میلا ہوتا جا رہا ہے۔ کبھی 80 فیصد امریکہ گورا چٹا تھا، آج یہ شکل ہو گئی کہ گوری اکثریت سمٹ کر 59 فیصد رہ گئی یعنی 60 فیصد سے بھی کم۔ باہر سے لوگ اسی طرح آتے رہے اور گورے دس فیصد اور کم ہو گئے تو امریکہ میں گورے لوگ اقلیت میں آ جائیں گے، چنانچہ ٹرمپ کو سب میلے رنگ دار لوگوں سے نفرت ہے اور سب سے زیادہ ہسپانوی نسل کے لوگوں سے۔ میکسیکو کی باری کسی بھی وقت آ سکتی ہے۔ 
____
ٹرمپ نے ایک اور اعلان بھی کیا ہے، بہت بڑا اعلان جو ہمارے ہاں زیادہ نمایاں نہیں ہو سکا۔ یہ کہ مغربی نصف کرہ ارض پر امریکی دائرہ اثر کو متاثر کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی یعنی آدھا گلوب ہمارا ہے۔ چین روس اور دوسرے دور رہیں۔ 
اس آدھے گلوب میں گورے ملک دو ہی ہیں، ایک امریکہ، دوسرا کینیڈا۔ باقی سارے ملک ’’آئی بیرین‘‘ ہیں یعنی ہسپانوی یا پھر پرتگالی۔ ہسپانیہ اور پرتگال د ونوں مل کر جزیرہ آئی بیریا بناتے ہیں۔ ٹرمپ ان سب ملکوں پر کسی نہ کسی طرح کا قبضہ چاہتا ہے۔ کینیڈا کو ’’ختم‘‘ کرنے کا ارادہ ہے، ڈنمارک کے مقبوضہ جزیرے گرین لینڈ پر قبضے کا عزم ہے اور باقی سب کو وینزویلا بنانے کا۔ 
اور ان باقی سب ممالک کی تعداد دو چار نہیں ہے، یہ درجنوں میں ہیں۔ سرفہرست امریکی ساحل سے متصل ویسٹ انڈیز کے ممالک ہیں جن میں سوائے کیوبا کے باقی سبھی امریکہ کے پہلے ہی حلقہ بگوش ہیں، کیا جمائیکا، کیا ہیٹی، کیا پورٹوریکو، کیا ڈومی نیکا اور کیا ڈومی نیکن ری پبلک، کیا گرنیاڈا، کیا ٹرنیڈاڈ  اور دوسرے۔ 
پھر میکسیکو ہے اور میکسیکو کے بعد میکسیکو کی دم، اس پتلی سی دم میں کوئی سات ملک ہیں۔ سبھی بہت ننھے اور سبھی بہت منّے۔ 
گواٹے مالا، ہنڈوراس، کوسٹاریکا، پانامہ، نکارا گوا وغیرہ۔ اور پانامہ وہی نہر پانامہ والا جس پر ٹرمپ کی بہت ہی خاص نظر ہے۔ 
اس کے بعد جنوبی امریکہ ہے جس کا وینزویلا ایک ملک ہے، دس بارہ اور ہیں، برازیل، ارجنٹائن، چلّی،بولیویا، پیرو، کولمبیا، اس کے علاوہ چار پانچ اور جن میں سے تین تو ’’گیانا‘‘ ہیں۔ صرف گیانا، فرنچ گیانا اور ایک تیسرا گیانا جو اب ’’سری نیم‘‘ ہو گیا ہے۔ تو ان سب کی ’’فتح‘‘ کا ارادہ ہے۔ 
چین روس تو بس دیکھتے ہی رہ گئے، خاص طور سے چین کہ وینزویلا سے تیل کی سپلائی بند ہوئی تو گویا شہ رگ پر ہاتھ پڑ گیا۔ یہ کریں بھی تو کیا، اتنی دور سے بس دیکھ کر ہاتھ ہی مل سکتے ہیں۔ ہاں، چین چاہے تو تائیوان پر قبضہ کر سکتا ہے۔ اتنی طاقت اس نے بنا لی ہے کہ ایک دو دن کے ایڈونچر میں اس پر مکمل قبضہ کر لے۔ لیکن ایسا کیا تو اس کا مشرقی ساحل سارے کا سارا نیم دائرے کی شکل میں پھیلے ہوئے امریکی اڈوں کی زد میں آ جائے گا، ساری ترقی چین کی اسی ساحلی پٹی میں ہے، بس بڑی جنگ چھڑ جائے گی۔ 
____
پنجاب کی حکومت نے اعلامیہ جاری کیا ہے کہ 25 ہزار روپے کا ماہانہ اعزازیہ ان علما کو نہیں ملے گا جو حکومتی پالیسیوں پر تنقید کریں گے۔ 
اتنا لمبا چوڑا اعلامیہ جاری کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ ایک سطر کافی تھی کہ علامہ طاہر اشرفی کے علاوہ اور کسی کو اعزازیہ نہیں ملے گا۔ 
نانک دکھیا سب ’’پنجاب‘‘ علما بھی دکھی، ادھر کسی نے حکومت سے رحم کی اپیل کی، یا ایک آدھ لفظ شکوے کا منہ سے نکالا اور اعزازیہ بند۔ 
____
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ سہیل آفریدی نے ایک خطاب میں پھر کہا ہے کہ پاک فوج کو صوبے میں دہشت گردوں کیخلاف آپریشن کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے کہا ، دہشت گردوں سے مذاکرات کئے جائیں۔ 
یہ انہوں نے پہلی بار نہیں کہا، بار بار کہا ہے، کل ملا کے اٹھارہ بار تو کہہ ہی چکے ہوں گے۔ 
اور مزے کی بات ہے کہ ہر بار انہوں نے فوج ہی کو مخاطب کیا ہے، یہ کہ وہ آپریشن بند کر دے۔ دہشت گردوں سے ایک بار بھی نہیں کہا کہ وہ بھی اپنے ’’اپریشن‘‘ بند کر دیں۔ خلاصہ یہ کہ فوج کو کچھ کرنے کا حق نہیں ، سارا حق سب کچھ کرنے کا دہشت گردوں کا ہے۔ ان کے حق پر روک نہ لگائی جائے۔ کیا خوب، یعنی سنگ وخشت مقید ہوں اور سگ پوری طرح آزاد۔

بشکریہ نواےَ وقت

'.$config["ad_footer"].'