مہمان کالم - آبی تنازعات آبی تنازعات

    دی ہیگ میں قائم مستقل ثالثی عدالت نے سندھ طاس معاہدے(آئی ڈبلیو ٹی)کو روکنے میں بھارت کے غیر قانونی طرزعمل کے بارے میں تاریخی فیصلہ سنایا ہے۔ تازہ ترین فیصلے کے بھارت کی یکطرفہ پالیسی کی سخت سرزنش کرتے ہوئے بھارتی اقدامات کو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے‘ بھارت کی جانب سے آئی ڈبلیو ٹی کی معطلی ایسی خارجہ پالیسی کا نتیجہ ہے جو نظریاتی تعصب اور غلط فہمیوں پر مبنی ہے اور جس کی وجہ سے وہ اپنے جنگی جنون اور بین الاقوامی قوانین نظر انداز کر رہا ہے۔ آئی ڈبلیو ٹی دریاؤں کی تقسیم کا طریقہ کار ہے جو دونوں ممالک کے درمیان ماضی کی جنگوں کے دوران بھی برقرار رہا تاہم جب سے بھارت میں نظریاتی طور پر جنونی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)حکومت برسراقتدار آئی ہے، اس نے خطے میں امن و استحکام کی حمایت کرنے والے بین الاقوامی قانونی فریم ورک کو مسلسل کمزور کرنے کی کوشش کی ہے۔بھارت کے ہتھکنڈے، جن میں فالس فلیگ آپریشنز اور آئی ڈبلیو ٹی کی صورت کئے گئے عالمی وعدوں کو مسترد کرنا، علاقائی امن کے لئے واضح خطرہ ہیں۔ پاکستان کے دریاؤں کے بہاؤ کا گلا گھونٹنا اور اس کے نتیجے میں زرعی زمینوں کو ویران کرنا بی جے پی حکومت کے پاکستان مخالف بیانات کا بار بار موضوع رہا ہے۔ مذکورہ مقصد کے حصول کے لئے بھارت نے آئی ڈبلیو ٹی کے تحت پاکستان کو مختص کئے گئے تین مغربی دریاؤں کے پانی کے بہاؤ کو روکنے کی حکمت عملی اپنا رکھی ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لئے اس نے تینوں مغربی دریاؤں بالخصوص دریائے چناب کو ہدف بناتے ہوئے ایک مہم شروع کی ہے جس پر بھارت 60 ڈیم تعمیر کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ بھارت کو دریائے سندھ پر زیادہ برتری حاصل نہیں کیونکہ اس کا زیادہ تر پانی پاکستان کے اندر واقع معاون ندیوں سے آتا ہے تاہم، چناب کو سب سے زیادہ خطرہ لاحق ہے کیونکہ یہ ہماچل پردیش اور جموں سے گزرتا ہے، جہاں بھارت کے پاس ڈیموں کی تعمیر کے لئے جگہ ہے۔آئی ڈبلیو ٹی بھارت کو مغربی دریاؤں (6.3 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے)کے پانی کو زراعت، پینے اور بجلی کی پیداوار جیسے غیراستعمال شدہ مقاصد کے لئے استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ اب تک بھارت نے 6.3 ملین ایکڑ فٹ ذخیرہ کرنے کے الاؤنس کا مکمل استعمال نہیں کیا اور اس کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 3360 میگاواٹ ہے تاہم اس صلاحیت کو 12 ہزار میگاواٹ تک بڑھانے کا ارادہ ہے۔ تقسیم سے قبل رنبیر نہر جیسے متنازعہ منصوبے بھی ہیں، جس کی لمبائی اور گنجائش کو دوگنا کرکے 120 کلومیٹر کیا جا رہا ہے، جس سے اسے اکھنور کے قریب فی سیکنڈ 150 مکعب میٹر پانی کھینچنے کی اجازت مل رہی ہے۔ دریائے چناب پر بھارت کی جانب سے ڈیموں کی تعمیر سے پاکستان کے مختص پانی میں ہیرا پھیری ممکن ہے جبکہ پہلے ہی، اس دریا میں پانی کم ہے۔پاکستان اور بھارت کے درمیان آبی تنازعے کا بنیادی نکتہ ہائیڈرو الیکٹرک منصوبے ہیں۔ بھارت کا استدلال ہے کہ اسے ڈیزائن میں تبدیلیوں کی ضرورت ہے تاکہ آبی ذخائر سے مٹی کے بہاؤ کی اجازت دی جاسکے تاکہ ان کی آپریشنل زندگی کو طول دیا جاسکے۔ تاہم پاکستان کا موقف ہے کہ اس طرح کی تبدیلیوں کو آئی ڈبلیو ٹی کے اینکس ڈی (پیراگراف 8 سے آرٹیکل 2 ڈی) کے مطابق ہونا چاہئے۔ اِن پیرامیٹرز سے مراد ڈیڈ اسٹوریج لیول سے نیچے پانی کے انلیٹ کے مقام، گیٹڈ اسپل ویز کی صورت میں گیٹ کے نچلے حصے کی جگہ اور ٹربائنوں کی اعلیٰ ترین ممکنہ سطح پر استعمال ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ ذخیرہ کرنے کی صلاحیت جائز حد سے تجاوز نہ کرے۔ آئی ڈبلیو ٹی کے مطابق بھارت کو دریا کے کسی بھی مجوزہ منصوبے کے بارے میں پاکستان کو چھ ماہ پہلے مطلع کرنا ہوگا۔ رتلے اور کشن گنگا کے معاملوں میں تنازعات کو ثالثی عدالت اور غیرجانبدار ماہر کے پاس بھیجنے پر پاکستان کے اصرار کے علاوہ، بھارت نے آئی ڈبلیو ٹی روکنے کے لئے چار بنیادی اور غیر متوقع وجوہات کا حوالہ دیا۔ آب و ہوا کی تبدیلی، آبادیاتی تبدیلیاں، صاف توانائی اور دہشت گردی۔ تاہم یہ اپنی ماحولیاتی یا ماحولیاتی تحفظ کی ذمہ داریوں کا احترام نہیں کر رہا۔بھارت آئی ڈبلیو ٹی کے آرٹیکل 12 کی خلاف ورزی کر رہا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ یہ معاہدہ صرف دونوں ممالک کے درمیان باہمی طور پر منظور شدہ نئے معاہدے کے ذریعے ہی ختم کیا جا سکتا ہے۔ یہ معاہدوں کے قانون (وی سی ایل ٹی)پر ویانا کنونشن کی بھی خلاف ورزی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ کسی معاہدے کو صرف اس کی اپنی شقوں (آرٹیکل 57) کے مطابق معطل کیا جاسکتا ہے یا اگر ایک فریق معاہدے کی مادی خلاف ورزی میں پایا جاتا ہے۔ بھارت کے پاس نہ تو معاہدے کو معطل کرنے کی قانونی حیثیت ہے اور نہ ہی یہ ثابت کرنے کے لئے کوئی ثبوت ہے کہ پاکستان نے مادی خلاف ورزی کی ہے۔پاکستان نے پی سی اے کے فیصلے کے ساتھ قانونی جنگ میں پہلا مرحلہ جیت لیا ہے اور اگلا قدم عالمی بینک یا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ذریعے عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) سے قانونی رائے حاصل کرنا چاہیے۔بھارت کی جانب سے اس معاہدے کی منسوخی سے عالمی سرحدپار تنازعات کے حل کے لئے خطرناک مثال قائم ہونے کا خطرہ ہے، جس سے پانی کی تقسیم کے کئی دیگر کنونشنز اور معاہدوں کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ دنیا بھر میں 153 ممالک 286 بین السرحدی دریاؤں اور 592 آبی ذخائر کا اشتراک ہیں۔آئی ڈبلیو ٹی طویل عرصے سے بین السرحدی دریاؤں کی تقسیم کا مثالی نمونہ رہا ہے، جس کی دنیا کو بڑھتی ہوئی پانی کی قلت اور بھارت کی جانب سے اس کی منسوخی کے بعد علاقائی اور عالمی بین السرحدی تعاون دونوں کے لئے وجودی خطرہ قرار دیا گیا ہے۔ (بشکریہ دی نیوز۔ تحریر ڈاکٹر راشد ولی جنجوعہ۔ ترجمہ ابوالحسن اِمام)

بشکریہ روزنامہ آج