546

انسان اور انسانی ہڈیاں

آج کے دور میں ہڈیوں کی کمزوری اور ٹوٹ پھوٹ ایک بڑا مسلہ بن چکا ہے ہڈیوں کی کمزوری تقریبا تیس سال کی عمر سے شروع ہو جاتی ہےکچھ چیزیں ہماری عادات میں ایسی شامل ہو گئی ہیں جن کے بارے میں ہم آگاہ ہی نہیں جن میں تیز مرچوں والے کھانے اور تیز میٹھی اشیائ شامل ہیں اٹھنے بیٹھنے کا غلط انداز بھی ہڈیوں کو کمزور کر دیتا ہے ہڈیوں کی کمزوری انسانی زندگی کے لیے جان لیوا ثابت ہوتی ہے عام طور پر ہڈیوں پر مشتمل انسانی ڈھانچا سخت ہوتا ہے پھر بھی اس میں وقت کے ساتھ ساتھ تبدیلی ہوتی ہی ہر عمر میں پرانی ہڈیوں کے کئی حصے گھستے رہتے ہیں اور پھر نئے شامل ہوتے ہیں ورزش اور کیلشیم کے مناسب استعمال سے ہماری ہڈیاں محفوظ رہ سکتی ہیں ہماری ہڈیاں ہماری صحت کا سرمایہ ہیں جوانی میں اس سرمائے کا جتنا خیال رکھیں گے بڑھاپے میں ہماری صحت اسی قدر برقرار رہے گی اکثر لوگ جو بچپن میں مناسب مقدار میں کیلشیم استعمال نہیں کر سکے ان میں ہڈیوں کی ٹوٹ پھوٹ کا امکان بڑھ جاتا ہے
عمر میں اضافے کے ساتھ ساتھ ہڈیوں کی افزائش کا عمل رک جاتا ہے ہڈیوں کی صحت پر توجہ دینے سے اس نقصان سے محفوظ رہا جا سکتاہے چونکہ ہڈیوں کی کمزوری اور ٹوٹ پھوٹ کا مرض تب تک سامنے نہیں آتا جب تک کسی کی کوئی ہڈی ٹوٹ نا جائے ہڈیوں کی صحت کے لیے وٹامن ڈی بہترین ہے یہ دودھ دہی پنیر اور مکھن میں وافر مقدار میں موجود ہے طبی ماہرین اس غذائی جز کے زیادہ استعمال پر زور دے رہے ہیں اور وٹامن ڈی حاصل کرنے کا ایک اہم ذریعہ دودھ بھی ہے
اب یہ بات قابل سوچ ہے کہ کیا ہم مناسب مقدار میں وٹامن ڈی استعمال کر رہے ہیں وٹامن ڈی کے استعمال کے ساتھ ساتھ واک اور ورزش بھی بہت ضروری ہے ورزش بچوں نوجوانوں اور خواتین کے لیے یکساں مفید ہیں دنیا میں لاکھوں افراد ہڈیوں کے مرض میں مبتلا ہیں لیکن توجہ سے اس بیماری سے محفوظ رہا جاسکتا ہے
اللہ آپ کا خامی و ناصر ہو
 

بشکریہ اردو کالمز