629

مظلوم لوگ: آج اور کل 

منو برہمن کی تصنيف منو سمرتی ميں سماجی و معاشی قوانين لکھے گئے ان کی بنياد انسان دشمن نسل پرستی پہ ہے. ان سے ہی طبقاتی و نسلی فرق کو گہرا کيا گيا اور سماج ميں انسانی رشتوں کے مابين ايک مستقل فرق پيدا کيا گيا. کچھ جاتيوں کو اچھوت کہہ کر ان کے ليے جينا دشوار کرديا گيا.

گوتم بودہ اور بودھ حکمرانوں نے طبقاتی و نسلی فرق کو برصغير سے ختم کر کے انڈيا کو پہلی بار ايک سماج بنانے ميں کاميابی حاصل کی تھی اور سماج ميں نسلی امتياز لگ بھگ ختم ہو چکا تھا اسے منو مہراج نے دوبارہ زندہ کيا، پوشی مترا اور منو مہراج کے قوانين پر سختی سے عمل کرنے کی وجہ سے برصغير کا سماج بری طرح تقسيم ہو گيا اور بيرونی قوتوں اور حملہ آوروں کے ليے برصغير پر غلبہ حاصل کرنا انتہائی آسان ہو چکا تھا. يہ دور ہی برصغير سے بودہ مت کا خاتمہ اور بيرونی حملہ آوروں کی برصغير ميں آمد کا سبب بنا. پھر وہ ہی ہوا کہ ہزاروں سالوں کی تاريخ ميں يہ 'نيچ اور مليچھ لوگ wretched of the Earth' خانہ بدوشی، سماجی تنہائی اور بدترين مت بھيد سہہ کر انتہائی ذلت آميز زندگی گذارتے آ رہے ہیں۔

ورن نظام سے ذات پات کے مت بھيد کی ارتقا ہوتی ہے. اچھوت پن اور ورن کا نظام ايک دوسرے سے منسلک ہیں. دوسرے الفاظ ميں يہ ايک ہی سکے کے دو رخ ہیں. يہ ہی ہندو سماج ميں ايک دوسرے سے بيگانگی کا سبب ہے. اچھوتوں کی زندگی کی کہانی ذلتوں و ايذا رسائيوں کا ايک نہ ختم ہونے والا تسلسل ہے۔

ويدک دھرم کے خلاف سب سے پہلے بغاوت برہسپتی نے کی، ان کے بعد چار واک منی تھے جنہوں نے اس 'جنم جرم' يعنی ورن نظام کے خلاف بغاوت کو جاری رکھا. مہاوير جين کے عقائد ميں انسانيت اور مساوات پر زور ديا گيا. نچلی ذاتيوں کے ليے بھائيچارے اور مساوات کا فکر دينے والا پہلا حقيقی باغی گوتم بودہ ہی تھا. سدھارتھ نے بودھ مت متعارف کيا. اس کا بھگتی مارگ بھی انسانيت اور برابری کی تلقين کرتا ہے. ان کے بعد ہندو بھگتوں نے بھی ويدک / برہمن دھرم کے خلاف بغاوت کی. بھگتی تحريک کے سلسلے ميں اہم کردار کبير، ميراں، رامانند، رامانج، مادھو آچاريہ، شنکر آچاريہ، رويداس، گرونانک وغيرہ کا تھا. انہوں نے ہندو سماجی نفسيات ميں بيگانگی کو ختم کرنے اور آپسی ميل جول اور بھائيچارے اور اوچ نيچ کے بجائے مساوات پر زور ديا. 

شودر اور مليچھ الفاظ کا استعمال ويدک دور سے شروع ہوا، شودر لفظ سے دھتکار، نفرت و تعصب کا اظہار ہوتا ہے. اچھوت (سنسکرت زبان کے لفظ 'انچھر' سے ماخوذ) ان سے بھی پہلے کا ہے. ايسے لوگ جن کو چھونے اور ان کے ساتھ کھانے پينے سے ممانعت کی گئی ان لوگوں کے ليے اچھوت لفظ کا استعمال کيا گيا. غلاموں کے ليے 'داس' لفظ کا بھی استعمال ہوا ہے. آج بھی دراوڑ جاتيوں کے لوگوں کے ناموں کے بعد داس لفظ لکھا جاتا ہے. آريا دراوڑوں کو ديوس پتر يعنی ديوتائوں کی اولاد کہتے تھے (جبکہ برہمن کو ديوتا سمجھا جاتا تھا). ويدوں ميں جن کو راکشش کہا گيا وہ دراصل غير برہمن مزاحمتکار ہی تھے۔

انڈيجينيس يا آديباسی وہ قديم لوگ ہیں جو ہر جگہ پسماندگی سے بھرپور سخت ترين زندگی گزارتے ہیں. آفريکا کے قديم قبائل، يورپ ميں آباد جپسی، آمريکا کے ريڈ انڈينس، آسٹريليا کے ابورجينس وغيرہ انڈيجينيس لوگ شمار کيے جاتے ہیں. (يورپ ميں بسے جپسی لوگوں کا تاريخی تعلق بھی انڈيا کے دراوڑ (آدی دراوڑ) لوگوں سے ہے جو تاريخ کے کسی دور ميں راجستھان کی روما دريا کی واديوں پر رہتے تھے، يہاں سے مصر اور مصر کے بعد يورپ وارد ہونے کی وجہ سے انہیں مصری/ايجيپٹين/ جپسی کہا جانے لگا بالکل اسی طرح کولمبس نے آمريکا کے اصل باشندوں کو ريڈ انڈين کا نام ديا) انڈيا ميں او بی سی يا بہوجن کا اصطلاح بھی رائج ہے، او بی سی (Other  Backward Castes)  ميں بھی وہ جاتياں شمار ہیں جو اس دھرتی کے قديم لوگ ہیں، سياسی اصطلاح ميں انہیں 'بہوجن' (بہو=اکثريتی، جن=نسل) کہا جاتا ہے، انڈيا ميں 85% سے زائد لوگ بہوجن ہیں، جس ميں ہر مذہبی پس منظر رکھنے والے لوگ شامل ہیں. چونکہ ويدک دھرم اور برہمنوں کے غلبہ کی وجہ سے ہندو سماج ميں ہی ذات پات کے استحصال کو مقدس حيثيت حاصل ہے اور سماج ميں ذات پات کے بھيد بھاو کو ايک تاريخی، روحانی و دھرمی بنياد پر غيرانسانی تجربات کی صورت ميں جاری رکھا گيا اور مخصوص جاتيوں کے لوگ ہی اس کا شکار بنتے رہے. ان معاشرتی و معاشی استحصال زدہ لوگوں کو دلت کہا جاتا ہے. اس طرح صرف ہندو سماج ميں سماجی و معاشی استحصال کے شکار لوگوں کو دلت سمجھا گيا ہے جبکہ دلت نسلی يا مذہبی اصطلاح کے باوجود سياسی مزاحمتی اصطلاح ہے. سماج ميں عورت، عتاب کے شکار مذہبی و قومی گروہ، تيسری جنس (ٹرانسجينڈرس) سميت ہر اس شخص يا گروہ کے ليے دلت لفظ استعمال کيا جا سکتا ہے جو سياسی، معاشی استحصال کے ساتھ بدترين سماجی امتياز کو بھی بھگت رہا ہے.

برصغير کے کچھ قبائل کو دراوڑوں سے بھی قديم کہا جاتا ہے. ان کو مورخين نے آتی/آدي دراوڑ کے نام سے لکھا ہے. دراوڑوں کو ناگا لوک بھی کہا گيا ہے. راون کی لنکا دراوڑوں کی آخری خودمختيار رياست تھی. برصغير کی تاريخ ميں ھميں يہ روايتيں بھی ملتی ہیں کہ آدی دراوڑ لوگوں يا شودروں کا سايہ پڑتے ہی انسان ناپاک ہو جاتا ہے اور ان کا دقيانوسی حل گنگا ميں اشنان کرنا (يا گائے کے پيشاب سے غسل کرنا) ہے. يہ عقليت پرستی کے برعکس توہم پرستی ہی تھی جس ميں برملا اظہار کيا گيا کہ 'غير آريائی شودر لوگ برہمن کے پائوں سے پيدا ہوئے ہیں'. يہ نسل پرستانہ شناخت دراصل ناگا لوگوں/ دراوڑوں يا آديباسيوں کے خلاف بدنيتی پر مبنی تعصب و نفرت کا بھدا اظہار تھا (بلکہ کسی صورت ميں آج تلک بھی جاری ہے). شودروں سے ازدواجی تعلق، ان کے ساتھ کھانا پينا حتیٰ کہ ان کو چھونا يا ان سے بات کرنا بھی ممنوع تھا. يہ ہی کول، سنتھال، اوڈ، ميد، موھن جو داڑو تہذيب کے معمار تھے. کيا 'نچلی' جاتيوں کی کوئی تاريخ نہیں ہے؟

آج بھی ھندوستان اور پاکستان میں یہ لوگ تعصب اور بدترین طبقاتی استحصال کا شکار ہیں. اور یہ لوگ سماجی برابری کے لئے مزاحمت کے راستے پر چل رہی ہیں. 

سندھ کے دراوڑ لوگ تاریخ کے بدترین دور میں گذار رہے ہیں. کیا لیفٹ کی سیاست ان لوگوں کو اپنے جدوجہد میں شامل کر کہ ان کو بنیادی انسانی حقوق دلا سکتے ہے؟ 

 

بشکریہ اردو کالمز