راج ناتھ سنگھ پاکستان کو مسلسل دھمکیاں دے رہے ہیں۔ سندھ کے حوالے سے اس سہہ ماہی میں ان کا یہ چوتھا بیان ہے۔انکا دماغ خراب نہیں ہوا۔ وہ شعوری حالت میں وہ بات کر رہے ہیں جو ہندو شائونزم کے ہاں بنیادی اصول کا درجہ رکھتی ہے۔جن لوگوں کو بھارت کے بارے میں کسی بھی درجے میں کوئی غلط فہمی ہے وہ راج ناتھ کے سندھ کے بارے میں دیے گئے بیان سے دور ہو سکتی ہے۔ راج ناتھ کہہ رہے ہیں کہ سرحدیں کبھی یکساں نہیں رہتیں یہ بدلتی رہتی ہیں لیکن وہ یہ بات نہیں سمجھ پا رہے کہ اب کی بار سرحدیں بدلیں تو بمبئی سے آگے تک کا علاقہ سندھ کا حصہ بن کر پاکستان میں بھی تو شامل ہو سکتا ہے۔دنیا میں دو ہی ایسے ملک ہیں جارحیت جن کی پالیسی کا بنیادی اصول ہے۔ ایک بھارت ا ور دوسرا اسرائیل۔ دونوں ہی انسانیت کے لیے ناسورا ور امن عالم کے لیے خطرہ ہیں۔دونوں علانیہ طور پر بین الااقوامی قوانین کو پامال کرنے کی بات کرتے ہیں۔ دونوں مسلمہ بین الاقامی سرحدوں کی حرمت تسلیم کرنے کو تیار نہیں اور دونوں ک امزاج سامراجی ہے۔راج ناتھ کے بیانات میں چھپا پیغام بڑا واضح ہے۔ اور پیغام یہ ہے کہ بھارت جنوبی ایشیا کا اسرائیل بننے کی کوشش کر رہا ہے۔ صہیونی ریاست کے ساتھ ہندتوا ریاست کی مماثلت بہت زیادہ اور غیر معمولی ہے۔ سرائیل نے مشرق وسطی میں بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ، اس کے ضابطوں اور چارٹر کو پامال کیا ہے اور بھارت یہی کام جنوبی ایشیا میں کر رہا ہے۔دونوں ریاستیں اس بات سے بالکل بے نیاز ہیں کہ اقوام متحدہ کے قوانین اور اصول کیا ہیں اور بین الاقوامی کیا کہتا ہے۔ اسرائیل بھی مسلسل جنگی جرائم کا ارتکاب کرتا آیا ہے اور کر رہا ہے اور بھارت نے بھی پاکستان پر حملہ کر بین الاقوامی قانون کی دھجیاں اڑا دی ہیں۔ اسرائیل بھی ایک غاصب اور نسل پرست ریاست ہے ا ور بھارت بھی ایک غاصب اور نسل پرست ریاست ہے۔ نہ صہیونیت بقائے باہمی کی قائل ہے نہ ہند توا بقائے باہمی پر یقین رکھتا ہے۔یہ فکری اور عملی ہر دو اعتبار سے جڑواں تصور ہیں۔ ہندتوا کے فکری خدوخال وہی ہیں جو صہیونی ریاست کے ہیں۔ صہیونی ریاست کے فکری خدوخال دو خود ساختہ تصورات پر استوار ہیں۔ پہلا یہ کہ یہودی اللہ کے چنے ہوئے لوگ ہیں۔ دوسرا یہ کہ اللہ نے اپنے ان چنے ہوئے لوگوں کو نیل سے فرات تک کا سارا علاقہ و دیعت کر رکھا ہے۔ چنانچہ اسرائیل میں یہ بات عقیدے کی حد تک راسخ ہے کہ اگر آپ یہودی ہیں تو تورات میں جن جن زمینوں کا ذکر ہے ان ان زمینوں پر آپ کا اور صرف آپ کا حق ہے۔ اس کو biblical lands کا تصور کہا جاتا ہے۔اس تصور کے سامنے وہ کسی چیز کوماننے کو تیار نہیں۔ نہ اقوام متحدہ کو نہ اقوام متحدہ کے کسی انٹر نیشنل لاء کو۔ اسی نقش قدم پر بھارت چل رہا ہے۔ بھارت کا اکھنڈ بھارت کا تصور صہیونیت کے biblical lands کے تصور سے ملتا جلتا ہے۔ بھارت کا بھی دعوی ہے کہ خطے کے ممالک کا وجود قبول نہیںکیا جا سکتا کیونکہ یہ سارا خطہ بھارت ماتا ہے اور ماتا کی تقسیم گوارا نہیں۔ جس طرح صہیونیت کے biblical lands کے تصور پر اسرائیل نے سرکاری طور پر مہر تصدیق ثبت کر رکھی ہے اور یہ کسی جنونی یا نیم پاگل ربی کی ذہنی اختراع نہیں ہے اسی طرح بھارت ماتا کا یہ تصور بھی محض سنگھ پریوار کا تصور نہیں بلکہ بھارتی ریاست اس کی سرپرستی کر رہی ہے۔ جزوی سا فرق صرف طریقہ واردات کا ہے، جوہری طور پر یہ ایک جیسی فسطائیت ہے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ بھارت نے جب پارلیمان کی نئی عمارت کا افتتاح کیا تو اس میں بھارت کی موجودہ ریاست کے نقشے کی بجائے اکھنڈ بھارت کا نقشہ آویزاں کیا اور پورے پاکستان، پورے بنگلہ دیش، پورے نیپال، پورے میانمر اور ایک تہائی افغانستان کو بھارت کا حصہ دکھایا گیا۔ یہ نقشہ اسرائیلی پارلیمان میں آویزاں اس نقشے کی طرح کی واردات تھی جس میں نیل سے فرات تک کے علاقے پر اسرائیلی ملکیت کا دعوی کیا گیا ہے۔ صہیونیت کے biblical lands کے تصور اور ہندو فاشزم کے اکھنڈ بھارت دونوں ممالک کی اس فسطائیت کو دونوں ممالک کے تصور کو ہر دو ممالک میں سرکاری سرپرستی حاصل ہے اوردونوں نے اپنے اپنے تصورات کو پارلیمان میں آویزاں کر رکھا ہے۔ دنیا میں دو بڑے تنازعات ہیں، ایک فلسطین اور دوسرا کشمیر۔ دونوں میں مظلوم مسلمان ہیں۔ دونوں میں انٹر نیشنل لا مظلوم کے ساتھ ہے لیکن دونوں پرغاصب قوتیں انٹر نیشنل لا کو خاطر میں نہیں لا رہیں اور دونوں میں اقوام متحدہ بے بس ہے اور دونوں تنازعات برطانیہ کے پیدا کر دہ ہیں۔ ہم اگر چیزوں کو مغرب کی بجائے اپنی آنکھ سے دیکھنے لگیں تو ہمیں معلوم ہو گا کہ یہ اتفا ق نہیں ہے۔ اسرائیل بھی مقبوضہ جات پر قابض ہے اور بھارت بھی۔ حیدرآ باد اور جونا گڑھ کی ریاستیں باقاعدہ پاکستان میں شمولیت کا اعلان کر چکی تھیں مگر بھارت نے قبضہ کر لیا اور اسرائیل ان علاقوں میں جا گھسا جو اقوام متحدہ نے واضح طور پر فلسطین کا علاقہ قرار دے رکھا تھا۔ اسرائیل فلسطینی مقبوضہ جات میں جو پالیسیاں متعارف کرا چکا اب بھارت انہی پالیسیوں کو کشمیر میں لاگو کر رہا ہے۔ بالکل اسی صہیونی انداز سے۔ اسرائیل نے ایک منصوبہ بندی سے مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی زمینیں ہتھیائیں اور اب بھارت اسی فارمولے کو لے کر کشمیر میں زمینوں پر قبضے کر رہا ہے۔ دونوں جگہ پر زمینوں پر قبضے کا پیٹرن دیکھا جائے توصاف معلوم ہوتا ہے کہ بھارت اسرائیلی پالیسی کو کشمیر میں لاگو کر چکا ہے۔ جس طریقے سے فلسطین میں اسرائیل نے فلسطینیوں کی زمینوں پر قبضے کیے، انہیں بے دخل کیا، ان سے زمینیں چھینیں، شہریت کے قوانین کے ذریعے ان کا استحصال کیا، انہیں در بدر کر کے بکھیر دیا، ان کی جائیدادیں ہتھیا لیں، نوآبادیاتی طرز پر ریاستی زمین کے اصول کے نام پر انہیں اپنی ہی سر زمین پر محکوم بنا دیا، بالکل اسی طرح اسی طرز پر بھارت کشمیر میں اسرائیلی فار مولے کے تحت اس کی مشاور ت اور اعانت سے کشمیریوں اور بھارتی مسلمانوں پر ظلم کر رہا ہے۔ تازہ ترین قانون سازی جو مسلم وقف کے حوالے سے کی گئی ہے، وہ اسی اسرائیلی فارمولے کی ہندتوائزیشن ہے۔پچھلے چند سالوں میں بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں بدلنے اور ریاستی زمین پر قبضے کرنے کے لیے قانون سازی کی آڑ میں ایسی خوفناک جارحیت کی ہے، جس کی اس سے پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔ سوائے مقبوضہ فلسطین کے جہاں اسرائیل بھی اسی طرز فسطائیت کو لے کر چل رہا ہے۔ بھارت اسرائیل کے ساتھ مل کر ’ویسٹ بنک فارمولے‘ کے تحت کام کر رہا ہے۔ یعنی جس طریقے سے فلسطین کے مغربی کنارے میں اسرائیل نے فلسطینیوں سے زمین چھین کر آباد کاری کی، اسی طرح اب بھارت اور اسرائل مل کر مقبوضہ کشمیر میں اسی فارمولے کے تحت مسلمانوں کے ساتھ کرنے جا رہے ہیں۔راج ناتھ سنگھ کو چاہیے سندھ کی سرحدیں بدلنے کی بجائے دوبئی سے اپنے تیجاس کا ملبہ اٹھانے کی فکر کریں۔ وہاں سے ابھی تک دھواں اٹھ رہا ہے۔
175