83

​​​​​​​ملک ریاض سامٹیہ کیلئے ایک کالم 

گزشتہ چند روز سے میں ایک عجیب مخمصے کا شکار رہا کہ مبارکباد دی جائے یا نہ دی جائے گزشتہ تین چارروز سے سوشل میڈیا پر مبارکباد اور تہنیتی پیغامات کا سلسلہ جاری ہے اس میں قابل صد احترام ملک ریاض حسین سامٹیہ صدر پیپلز پارٹی لیہ کو گورنر پنجاب کا کوارڈینیٹر مقرر کر دیا گیا اور نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا اس کی مجھے بے حد خوشی ہوئی کیونکہ جنوبی پنجاب کا پسماندہ ضلع لیہ ہے اور یہاں سے ایک ایسے فرد کا جو سیاسی حوالے سے سوجھ بوجھ رکھتا ہو اور ورکروں کے مسائل کو حل کرنے کا ادراک بھی رکھتا ہو اس کو ایک کوارڈینیٹر مقرر کر نا ضلع کے ہر فرد کیلئے ایک اعزاز تھا مگر اسی روز گورنر  پنجاب کا تردید ی بیان جو ان کے آفیشل پیج سے جاری ہوا،مقامی اخبار میں شائع کیا گیا جانے اخبار والوں کے مقاصد کیا ہیں لیکن مجھے اس کی خوشی ہوئی،
ماضی میں ضلع لیہ میں پاکستان پیپلز پارٹی کا بغور جائزہ لیا جائے تو ہمیں نظر آتا ہے کہ یہاں صدارت یا جنرل سیکریٹری کا عہدہ ان افراد کو ملا جو یہاں کی پارلیمانی کلاس کے منظور نظر تھے،ان کا تعلق ورکر کلاس سے تو نہیں تھا لیکن پارلیمانی کلاس اور ان کے مفادات مشترکہ تھے لیہ میں چوک اعظم سے چاچا اصغر پاکستان پیپلز پارٹی کے حقیقی ورکر تھے جنہوں نے ساری زندگی عسرت اور تنگی میں گزار دی لیکن پارٹی کے نظریات کا سودانہ ہونے دیا ساری زندگی چاچے گوپی کو سڑک کنارے سبزی بیچتے دیکھا یہ ورکرز ان افراد میں سے تھے جن کو شہید ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ کھڑا ہونے کا شرف تھا بھٹو شہید جب لیہ آئے تو استقبال کرنے والوں میں چاچا اصغر سب سے آگے تھے اسی طرح لیہ میں صدر بازار کے اختتام پر ظفر زیدی کی فوٹو گرافری کی شاپ تھی جہاں نظریات پر گفتگو ہوتی،محفلیں جمتیں،سابق گورنر پنجاب و وزیر اعلیٰ ملک غلام مصطفےٰ کھر ان کے پاس آتے،بھٹو شہید کی آمد پر ڈاکٹر قیصر مرحوم اور منور سینما والے جو ناز سینما کے مالک تھے کا ذکر کرنا ضروری ہے بھٹو صاحب جن کے ہاں ٹھہرے،اور منور کو باقاعدہ ٹکٹ کی آفر کی لیکن انہوں نے مہر منظور حسین سمرا کا نام تجویز کیا،مہر منظور حسین سمرا نے 1973کے آئین پر سائن کئے جس کا حلیہ موجودہ حکومت نے بگاڑ دیا ہے،ڈاکٹر قیصر مرحوم کا ایک اعزاز یہ بھی ہے کہ انہوں نے موجودہ پولی ٹیکنیکل کالج بھٹو صاحب سے مانگا تھا 
بہر حال مجھے خوشی ہے کہ ضلعی صدارت کیلئے ملک ریاض حسین سامٹیہ کا نام پارٹی نے تجویز کیا ان کی آمد سے پارٹی میں جان پڑی ہے،اب ہم چونکہ غیر جانبدار لوگ ہیں جن کواپنے خطے کے ہر فرد سے محبت ہے یہ تردد ہے کہ آیا ملک صاحب کو مبارکباد دی جائے  یا نہ دی جائے کیونکہ میرا تو یہ فرض ٹھہرا کہ تحقیق کے بعد آپ کو مبارک باد دوں یہ اس لیئے بھی ضروری ٹھہرا کہ آپ کے آنے سے پاکستان پیپلز پار ٹی کی بنیادیں مضبوط ہوئی ہیں تو اس حوالے سے میں چاہتا تھا کہ آپ کو مبارکباد بھیجوں محترمہ بے نظیر بھٹوکی شہادت کے بعد سے پیپلز پارٹی ضلع لیہ میں ہمیشہ مخمصے کا شکار رہی ہے
ہم قلم کاغذ والے لوگ جنہیں ہمیشہ لکھنے پڑھنے سے کام ہوتا ہے خاص طور پر میں اس بات پر اکتفا کرتا ہوں کہ سچ ہی طاقت ہے اور مجھے قطعی یقین ہے کہ آپ سچے ہیں لیکن یہاں ایسے افراد بھی موجود ہیں جنہیں خبر بنانا تو دور کی بات خبریت کے لوازمات کا پتہ بھی نہیں وہ مزید ابہام کا شکار ہو گئے اس ساری بے یقینی کی صورتحال سے نکالنے کے لیے میں ملک ریاض سامٹیہ سے گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ یہ جو خبریں لگ رہی ہیں یا جو لوگوں کے منہ پہ ایک بات ہے کہ نوٹیفکیشن نہیں ہوا تو اس تیز ترین سوشل میڈیا کے دور میں جب ہر چیز انسان کے سامنے ایک کلک کے بعد عیاں ہوجاتی ہے وہ کوارڈینیٹر کانوٹیفکیشن جاری کریں اور پریس کلب میں باقاعدہ ایک پریس کانفرنس بھی کرکے ان کے منہ بند کریں اور ضلع لیہ کے عوام کو اس غیر یقینی ابہام سے نکالیں کیونکہ عدالت سے لے کر سیاست تک ہر چیز میں دستاویزی ثبوت کا وجود مانا جاتا ہے

بشکریہ اردو کالمز