عام انتخابات کا اعلان ہو چکا ہے ، الیکشن کمیشن نے الیکشن شیڈیول جاری کر کر دیا ہے اور کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا عمل شروع ہوچکا ہے ۔ اس کے بعد انتخابی گہما گہمی شروع ہو جائے گی ، سیاسی جماعتیں اور امیدوار جگہ جگہ سیاسی میدان سجائیں گے، جلسے ، جلوس اور ریلیاں نکالی جائیں گی۔ وہ عوام سے بہت سے وعدے کر کے انتخابی میدان میں اتریں گے۔ عوام کو سبز باغ دکھائیں گے، طرح طرح کے وعدے کریں گے ، انہیں یہ باور کرانے کی کوشش کریں گے کہ ہم کامیابی کے بعد ہمہ وقت عوام کی ہی خدمت کریں گے ۔ ہمیں اپنے مفادات سے کوئی سروکار نہیں ہے ہم تو بس عوام کے ہی خادم ہیں لیکن جب انتخابات میں کامیاب ہو جائیں گے تو پھر پیچھے مڑ کر بھی نہیں دیکھیں گے۔ پھر ان کے تمام تر وعدے ہوا ہو جائیں گے اور عوام منہ دیکھتے رہ جائیں گے۔ اب وہ پانچ سال کے لیے عہدوں پر براجمان ہو جائیں گے ، اب وہ کچھ بھی کرتے رہیں انہیں ہٹانا کوئی آسان کام نہیں ہو گا۔ ہمارے ملک بلکہ تمام جمہوری ممالک میں یہی مسئلہ چلا آرہا ہے کہ ایک بار جو شخص رکن اسمبلی بن گیا اب اسمبلی کی آئینی مدت پوری ہونے سے قبل اسے عہدے سے ہٹانا یا اس کی ممبرشپ ختم کرانا عوام کے بس میں نہیں ہوتا۔ عوام روتے ، چیختے چلاتے رہ جاتے ہیں جبکہ ان کے نمائندے اسمبلیوں اور مراعات کے مزے لوٹتے رہتے ہیں۔ عوام زیادہ سے زیادہ احتجاج کر لیتے ہیں لیکن وہ بھی سود مند ثابت نہیں ہوتا ۔ احتجاج اگر چھوٹے پیمانے پر کیا جائے تو کوئی توجہ ہی نہیں دیتا اور اگر بڑے پیمانے پر احتجاج کیا جائے تو اسے طاقت سے دبا دیا جاتا ہے یا مذاکرات کر کے چند مزید وعدے کیے جاتے ہیں ، بعد میں وہ بھی اکثر پورے نہیں کیے جاتے۔ جو ممبر ایک بار منتخب ہو جائے تو پانچ سال تک اس کی رکنیت پکی ہوتی ہے اس لیے وہ بھی بے فکر ہو جاتے ہیں کہ پانچ سال تک تو ہمیں کوئی نہیں ہٹا سکتا ۔ ہاں اگر کوئی آئینی و قانونی مسئلہ جیسے دہری شہریت اور اثاثوں کو چھپانا وغیرہ ہو تو عدالتوں کے ذریعے ان کی نااہلی ہو سکتی ہے جس سے ان کی اسمبلی کی رکنیت ختم ہو جاتی ہے (سیاستدان اس سے پیچھا چھڑانے کے لیے بھی کوشاں ہیں) لیکن فقط عوامی مسائل میں عدم دلچسپی اور اپنے انتخابی وعدے پورے نہ کرنے کی وجہ سے کوئی بھی انہیں نا اہل نہیں کرتا اور نہ ہی ان کی رکنیت ختم کرتا ہے ۔ اس لیے وہ انتخابات سے قبل خوب دعوے کرتے ہیں اور عوام کو سہانے خواب دکھا کر زیادہ سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ وہ اپنی بساط سے بڑھ کر دعوے اس لیے کرتے ہیں کہ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ ان دعووں کی وجہ سے ہم عوام کو مطمئن کر کے ووٹ حاصل کر لیں گے پھر وعدے پورنے نہ کرنے پر کون سا ہمارا محاسبہ ہو جانا ہے۔ ووٹ حاصل کرنے کے لیے یہ لوگ جھوٹے وعدوں کے ساتھ ساتھ پیسہ بھی خوب لگاتے ہیں ۔ جلسے ، جلوسوں اور اشتہارات پر بھی بے بہا خرچہ کرتے ہیں اس لیے کہ وہ سیاست کو کاروبار خیال کرتے ہیں اور انہیں معلوم ہے کہ اگر کامیاب ہو گئے تو ہم آئندہ پانچ برس کے دوران اس سے کہیں زیادہ کما لیں گے ۔ عوام بھی ان کی باتوں میں آجاتے ہیں اور انہیں خوب ووٹوں سے نواز کر کامیاب بناتے ہیں ۔ پھر یہی لوگ اسمبلیوں میں پہنچنے کے بعد انہی عوام کو آنکھیں دکھانے لگتے ہیںجن سے وعدے کر کے ووٹ حاصل کیے اور اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ۔ پھر انہیں پہچاننے سے بھی انکار کر دیتے ہیں ۔ انتخابات سے قبل روز لوگوں کے پاس جاتے ہیں لوگوں سے ملاقاتیں کرتے ہیں ۔ ایک ایک گھر میں جا کر ووٹوں کا مطالبہ کرتے ہیں۔ غریب امیر ہر شخص کے دروازے پر جاتے ہیں لیکن انتخابات میں کامیابی کے بعد پانچ سال تک حلقے کی شکل بھی نہیں دیکھتے ۔ عوام انہیں صرف ٹیلیوژن وغیرہ پر ہی دیکھ سکتے ہیں یا ان کی کالے شیشوں والی گاڑیوں کو ہی دیکھ سکتے ہیں جو سیکیورٹی کے حصار میں ہوتی ہیں ۔ عوام کی ان تک رسائی نہیں ہوتی ۔ لوگ اپنے مسائل حل کرانے کے لیے ان کے محلات کے چکر لگاتے رہتے ہیں لیکن انہیں ملاقات کے لیے وقت نہیں ملتا اگر کبھی خوش قسمتی سے مل بھی جائیں تو وہی جھوٹی تسلیاں دے کر رخصت کر دیتے ہیں ۔ عوام انہیں ووٹ دینے کے بعد اگلے پانچ سال تک انہیں وعدے پورے نہ کرنے کی وجہ سے برا بھلا کہتے رہتے ہیں جبکہ آپس میں ایک دوسرے کو بلکہ بسا اوقات خود کو بھی غلط شخص کو ووٹ دینے کی وجہ سے کوستے رہتے ہیں۔ خدا خدا کر کے پانچ سال پورے ہوتے ہیں اور دوبارہ انتخابات کا وقت آتا ہے تو یہ سیاستدان پھر ووٹ مانگنے کے لیے ان لوگوں کے پاس پہنچ جاتے ہیں ۔ یہ ایک بار پھر ان سے وعدے کرتے ہیں اور یقین دہانیاں کراتے ہیں کہ اب ہم کامیاب ہوئے تو فلاں فلاں کام ضرور کریں گے ۔ اکثر عوام پھر ان کے دام فریب میںآجاتے اور انہیں ووٹ دے دیتے ہیں لیکن ان دھوکہ باز سیاستدانوں کی تو وعدہ خلافیوں کی عادت ہوتی ہے اور وہ عوام سے بھی اچھی طرح واقف ہو چکے ہوتے ہیں کہ انہیں ہم اپنی چکنی چپڑی باتوں میں پھنسا سکتے ہیں اس لیے اسمبلیوں میں پہنچنے کے بعد وہ پھر پرانی روش اختیار کر لیتے ہیں اور عوام منہ تکتے رہ جاتے ہیں ۔ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم امیدوار کو پرکھ نہیں سکتے کہ کون سا امید وار ہمارے لیے بہتر ہو گا جو ہماری امیدوں پر پورا اتر سکے گا یا امیدوار میں کون سی خصوصیات ہونی چاہییں جن کی بنا پر اسے ووٹ دیا جاسکے ۔ ہم امیدواروں کے درمیان فرق نہیں کر پاتے کہ کون سے امید وار میں کیا خصوصیات ہیں جو اسے دوسروں سے ممتاز کر کے ووٹ کا حقدار بناتی ہیں؟ ہم سیاسی جماعتوں میں بھی بری طرح الجھے ہوئے ہیں ۔ ہم جس سیاسی جماعت سے ایک بار وابستہ ہو جائیں اسے عمر بھر چھوڑنے کو تیار نہیں ہوتے ۔ ہمیں اس جماعت سے عقیدت ہو جاتی ہے پھر وہ سیاہ کرے یا سفید ہم اس کا ہر قیمت پر دفاع کرتے ہیں ۔ چاہے اس کے لیے ہمیں شرعی احکامات پر سمجھوتہ کرنا پڑے یا اپنے خونی رشتوں کی ہی قربانی کیوں نہ دینی پڑے؟ پھر یہ سیاسی جماعتیں اسمبلیوں میں زیادہ سے زیادہ نمائندگی حاصل کرنے کے لیے ہر اس شخص کو انتخابات کے لیے ٹکٹ دیتی ہیں جو انتخابات جیت سکے خواہ اس کے لیے وہ کوئی بھی حربہ اختیار کرے ۔ چاہے وہ پیسے دے کر ووٹ خریدنے کی طاقت رکھتا ہو یا دھونس اور دھاندلی کے ذریعے ووٹ حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو ۔ بس وہ جیتنے والے گھوڑے کی طرح ہونا چاہیے اس کے علاوہ اس میں کسی قسم کی صلاحیت یا اہلیت کو نہیں دیکھا جاتا ۔ہمارے عوام سیاسی جماعتوں کے ساتھ اپنے دلی لگاؤ اور عقیدت کی وجہ سے ان کی طرف سے نامزد کیے گئے ہر امیدوار کو بخوشی ووٹ دینے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں بلکہ دوسروں کو بھی اسے ووٹ دینے کی ترغیب دیتے ہیں ۔ چاہے اس کا ماضی کتنا ہی داغدار ہو اس سے قطع نظر جماعتی وابستگی کی وجہ سے اسے بلا جھجک ووٹ دے دیا جاتا ہے پھر وہی ہوتا ہے جو ہم دیکھتے آرہے ہیں کہ ان کی غیر ذمہ دارانہ حرکات کی وجہ سے اپنے کیے پر پچھتاتے رہتے ہیں۔ عوام ووٹ دیتے ہوئے امیدوار کی اہلیت کو یکسر نظر انداز کر دیتے ہیں جس کی وجہ سے دنیاوی لحاظ سے تو مسائل پیدا ہوتے ہی ہیں اس کے ساتھ ساتھ اخروی اعتبار سے بھی لوگ گناہ گار ہوتے ہیں۔ ہم برادری کو دیکھتے ہوئے یا پارٹی کا لحاظ رکھتے ہوئے کسی ایسے شخص کو جان بوجھ کر ووٹ دے دیتے ہیں جو کرپٹ ہے یا ظالم ہے اب جب تک وہ اس عہدے پر رہے گا جس کے لیے ہم نے اسے ووٹ دیے ہیں اور گناہ کرتا رہے گا ،وہ گناہ چاہے جس شکل میں بھی ہو خواہ وہ کرپشن کی صور ت میں ہو، دوسروں کی حق تلفی کی صورت میں ہو یا کسی پر ظلم و ستم کی صورت میں ہر طرح سے ہم بھی اس کے گناہ میں پورے پورے شریک ہوں گے ۔ اس لیے کہ اس کی اس طاقت کا ہم ہی سبب بنے ہیں جس کے بل بوتے پر آج اسے گناہوں اور ظلم و ستم کی جرأت ہو رہی ہے۔ لہٰذا بہت زیادہ سوچ سمجھ کر اور امیدوار کی صلاحیتوں ، قابلیتوں اور تقویٰ کو دیکھ کر ہی ووٹ دینا چاہیے۔
236