سابق وزیراعظم جناب شہباز شریف نے کہاہے کہ ہماری پارٹی الیکشن جیتی تو نواز شریف وزیر اعظم ہوں گے، میں ان کا کارکن بن کرکام کروں گا۔ایک جہاں اس سوچ میں ہے کہ کیا معروضی سیاسی منظرنامے میں میاں نوازشریف کیلئے وزیراعظم بننے کی کوئی گنجائش باقی ہے۔یاد رہے کہ ہم اُس گفتگوکا حوالہ دے رہے ہیں جو بطوروزیراعظم انہوں نے جیو نیوز کے پروگرام ’کیپٹل ٹاک‘ میںمیزبان جناب حامد میر سے کی تھی۔ شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ نوازشریف آئندہ ماہ پاکستان آئیں گے اور قانون کا سامنا کریں گے۔قانون کا سامنا تو ابھی باقی تھا کہ قانون سے متعلق چند روز بعد ہی ایک عدالتی فیصلے پرموصوف نے جو کچھ کہا ،اخباری خبروں کے مطابق یہ ہے کہ شہباز شریف نے عدلیہ پر برہمی کا اظہارکیااور کہا کہ ریویو آف ججمنٹس اینڈ آرڈز ایکٹ کیس کا فیصلہ اسمبلی کی مدت پوری ہونے پر دینا خوفناک ہے، اس فیصلے سے نوازشریف کی واپسی پر اثر نہیں پڑے گا۔جب نوازشریف کی واپسی پر اثر نہیں پڑے گا تو اتنی ناراضی کیوں؟ دوسری جانب لیگی قانون دان کا ارشاد ہے کہ پارلیمان کی غیرموجودگی کا فائدہ اٹھایا گیا، 5سالہ نااہلی کے بعد سب اہل ہو چکے۔جب سب اہل ہوچکے توپھر پارلیمان کی موجودگی یا غیر موجودگی پر زور کیوں ؟گویاخود کہنے والے یکسو نہیں یا سب جانتےہوئے خود کو انجان ظاہر کررہےہیں؟بعض حلقو ں کا کہنا یہ ہے کہ میاں نواز شریف کیلئے شاید ہی وہ سب کچھ ممکن ہو پائے جو جناب شہباز شریف کہہ رہے ہیں ،ان حلقوں کے مطابق شہباز شریف سب جانتے ہیں مگر کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مصداق وہ وقت کو دھکادے رہے ہیں ۔بنابریں اگر درپردہ بقول شیخ رشید ن میںسے ش نکل چکاہے تو بھی یہ کوئی انہونی نہیں کہلائے گی،لیکن آئندہ کی حکومت ایسی ہوگی جس کے تعلقات ا سٹیبلشمنٹ سے تاریخ ساز خوشگوار ہونگے۔اگر یہ مثالی تعلقات روایتی وسیع تر قومی مفادکے بے عمل سلوگن کی بجائے ملکی وعوامی خوشحالی کی حقیقی بھلائی کیلئے استوار ہوں تو اس سے ایک ہمہ جہت توازن سامنے آئے گا،لیکن اگر مستقبل کی حکومت سے بھی اسی طرح کی چشم پوشی کی گئی جس طرح چندروز قبل ختم ہونے والی اتحادی حکومت کے کرتوتوںسے کی گئی تویہ منظرنامہ ہمیں بھارت اور بنگلہ دیش کی ترقی سے مزید پیچھے دھکیل دے گا۔76سالہ ہماری تاریخ گواہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے محض اس خاطر برسراقتدار حکومت اور اسکے حلیفوں کے قومی خزانے پر شب خون سے صَرف نظر کیا کہ وہ ان کی ڈکٹیشن کے تابع تھے۔خدا کرے کہ ایسی فضا بن پائے کہ ہم اپنے قدرتی وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے،شاہ خرچیوں اور ترقیاتی کاموں میں بندربانٹ جیسے خبائث سے اجتناب کرتے ہوئے عوام کو زندہ درگور کرنے والی مہنگائی سے نجات دلاسکیں ۔بنابریں پاکستان کاسہ گدائی سے نجات پاتے ہوئے خوشحال ممالک کی صف میں نظر آئے۔اب جانے والی اتحادی حکومت نے کیا کیا،عمران خان نے آئی ایم ایف سے عوام کش معاہدہ کیا تھا،اتحادی حکومت نے اس معاہدے پر من وعن پر عملدرآ مدکرتے ہوئے ضروریات زندگی یہاں تک کہ ادویات کو لاچار عوام کی دسترس سے باہر کردیا۔کیا ہی اچھا ہوتاکہ یہ لوگ میاں نواز شریف اور محترمہ مریم نواز کی بات کو مان لیتے اور فوری الیکشن کی طرف جاتے تو جہاں میاں صاحب کےاقتدارمیں آنے اور قانون سے سرخ روہونے کی باتیں درست ثابت ہوتیں ،وہاں مہنگائی کا الزام بھی عمران خان ہی پر رہتا۔اقتدار سے رخصتی پر اپنی جانب سے اتحادیوں کے اعزاز میں دئیے گئے عشائیہ میں جہاںشہباز شریف نے کہا کہ 30 سال سے اسٹیبلشمنٹ کی آنکھوں کا تارا ہونے پر فخر ہے، وہاں اُنہوں نے اس امر کا بھی اعتراف کیا کہ معاشی صورتحال کے باعث ہمارے ووٹ بینک میں کمی ہوئی، نواز شریف نے ووٹ کوعزت دو کا نعرہ لگایا وغیرہ وغیرہ ۔ ہمارا کہنا یہ ہے کہ بہت جلداس کا پتہ چل جائیگا کہ ووٹ کو عزت ملے گی یا نہیں ؟تاہم اس کا تو پتہ چل گیا ہے بلکہ برسوں سے پتہ ہے،یہ اب کوئی رازوالی بات بھی نہیں ،کہ جس اتحاد میں خصوصی طور پر پی ڈی ایم کی طرح کے اتحادی شامل ہوتے ہیں، ایسے اتحادوں میں یہ امکان ہی ختم ہوکر رہ جاتاکہ عوامی مسائل کا حل اولین ترجیح ہوگا،ایسے مواقع ایسی مذہبی اور وڈیرو ں سے مزین جماعتیں کہاں ضائع کرتی ہیں ،سو اُن کے تو وارے نیارے ہوگئے،اب مہنگائی جانے اور عوام!نیز جہاں تک میاں صاحب کے مستقبل کی بات ہے بظاہر توایسا لگتاہے کہ گویااُن کا مستقبل گروی رکھ دیا گیا ہو۔
282