ویت نام

 ویت نام جنوب مشرقی ایشیاءکا ملک ہے‘ شمال میں چین‘ مغرب میں لاﺅس ‘کمبوڈیااور مشرق میں سمندر ہے‘ دنیا کی آدھی سے زیادہ تجارت ساﺅتھ چائنہ سی کے ذریعے ہوتی ہے‘ اس لئے ویت نام کی جغرافیائی اہمیت بہت زیادہ ہے‘ ویت نام آزادی پسند لوگوں کی سرزمین ہے تاہم تاریخ میں کئی بڑے ملکوں نے اس پر قبضہ جمانے کی کوشش کی ‘ 19ویں صدی میں فرانس کی رگ حرص پھڑکی اور وہ ویت نام پر چڑھ دوڑا‘1887ءسے 1941ءتک ویت نام ‘لاﺅس اور کمبوڈیا فرانس کے قبضے میں رہے‘ 1941ءمیں جاپان نے حملہ کرکے قبضہ جمالیا‘ اس دوران دوسری جنگ عظیم بھی شروع ہو گئی تھی ‘اس جنگ میں دنیا دو گروپوں میں بٹ گئی‘ ایک گروپ میں فرانس‘ برطانیہ‘ روس ‘ چین اور امریکہ تھے‘ دوسرے گروپ میں جاپان‘ جرمنی اور اٹلی تھے‘ جاپان نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کیا تو امریکہ نے ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرا دیئے‘ تب جاکر جاپان نے سرنڈر کیا‘ ویت نام میں جاپان نے جاتے جاتے ایک چال چلی ‘ شمالی ویت نام میں چین کے آگے سرنڈر کیا اور جنوبی ویت نام میں برطانیہ کے آگے ہتھیار ڈالے‘ فرانس اور چین اتحادی تھے‘ فرانس نے مطالبہ کیا کہ 1941ءسے قبل ویت نام اس کی کالونی تھی اس لئے قبضہ اسے دیاجائے‘ چنانچہ ویت نام اسے گفٹ کردیاگیا‘ اس دوران ویت نامیوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا تھا‘ انہوں نے فرانس کیخلاف گوریلا جنگ شروع کردی‘فرانس کو 1954ءمیں بھاگتے ہی بنی‘ یہ معاہدہ جنیوا میں ہوا تھا جس کی روسے ویت نام کو دو حصوں میں تقسیم کردیاگیا‘ شمالی ویت نام میں ہوچی من اپنالوہامنوا چکے تھے لیکن جنوبی ویت نام والے جاکر امریکہ کی گود میں بیٹھ گئے‘ کوشش کی گئی کہ دونوں حصے متحد ہوجائیں لیکن امریکہ نے ایسا نہ ہونے دیا‘ جنوبی حصے کے لوگوں نے تنگ آکر اپنے ہی صدر کو قتل کردیا‘ ان دنوں سرد جنگ بھی عروج پر تھی‘ شمالی ویت نام میں کمیونسٹ خیالات غالب تھے۔

 امریکہ کوڈر تھا کہ جنوبی ویت نام تک کمیونسٹ آگئے تو روس اس پر غالب آجائے گا‘ امریکہ نے پہلے تو جنوبی ویت نامیوں کی درپردہ مدد کی لیکن وہ شمالی ویت نام کو شکست نہ دے سکا‘ 1964ءمیں امریکہ نے اپنے ہی بحری جہاز کو تباہ کرکے الزام شمالی ویت نام پر لگادیا اور جملہ ساز وسامان سمیت ویت نام پر چڑھ دوڑا اور یہاں سے اےک عبرتناک کہانی جنم لیتی ہے‘امریکہ نے ویت نام پر 70لاکھ بم برسائے‘ساڑھے 4 کروڑ لیٹر کیمیکل چھڑک کر سارے ویت نام کو بنجر کردیا اور 40لاکھ ویت نامی مار ڈالے‘ ویت نامیوں نے پھر بھی ہار نہیں مانی اور امریکہ کے گلے پڑ گئے‘ انہوں نے گوریلا جنگ شروع کردی‘ امریکی فوجی جہاں کیمپ لگاتے ویت نامی جنگجو دس دس کلو میٹر لمبی سرنگ کھود کر کیمپ تک پہنچ جاتے اور کیمپ تباہ کرکے رکھ دیتے‘ امریکی فوجی جس راستے سے گزرتے ویت نامی باغی بم لے کر وہاں کھڑے ہوجاتے‘ امریکی فوجی جہاں خیمہ لگاتے 2منٹ بعد خیمے سمیت بم کا نشانہ بن جاتے‘ ویت نام میں امریکی فوجی درختوں سے بھی ڈرنے لگے تھے‘ بچوں سے بھی خوفزدہ تھے اور عورتوں کو بھی دیکھ کر سہم جاتے تھے‘ 1975ءتک امریکہ 111 ارب ڈالر خرچ کرچکا تھا‘ 58ہزار 220لاشیں اپنے کندھوں پر لاد چکا تھا اور اس کے دو لاکھ فوجی اپاہج بھی ہوچکے تھے‘ ویت نامیوں نے گھات لگا لگا کر ایسے تاک تاک کر نشانے لگائے کہ امریکہ 58ہزار لاشیں اٹھا کر سرپر پاﺅں رکھ کر ایسا بھاگا کہ واشنگٹن جاکر دم لیا‘ اس وقت امریکہ کے تزک واحتشام اور جاہ وجلال کے سامنے دنیا میں کسی اور ملک کا چراغ نہیں جلتا تھا لیکن اس سارے غرور کا جنازہ کچھ ایسی دھوم دھام سے نکلا کہ دنیا انگشت بدنداں رہ گئی۔

 امریکہ کے فخروانبساط کے جملہ قدآور بت پاش پاش ہوکر اس کے اپنے ہی قدموں میں دھڑام سے آگرے لیکن ہمارا موضوع امریکہ کی شکست یا ویت نام کی فتح نہیں اس کے بعد کے حالات ہیں‘ ویت نامیوں نے اس دوران سیکھ لیا تھا کہ عزم‘ حوصلہ اور استقامت سے بڑے بڑے دشمنوں کو مات دی جاسکتی ہے اور یہی اوصاف مل کر ہجوم کو قوم بناسکتے ہیں‘ ویت نامیوں نے اس کے بعد ہتھیار رکھ کر ٹیکنالوجی کو سینے سے لگالیا‘ کارخانے لگائے‘ انڈسٹریل زون بنائے‘ سرمایہ کاروں کو مراعات دیں اور آج فرانس‘ جاپان اور امریکہ جیسے ملکوں کے ہاتھوں بار بار روندا جانے والا ویت نام امریکہ کو 60ارب ڈالر کے موبائل فون سالانہ بیچ رہا ہے‘ 60ارب ڈالر کتنی بڑی رقم ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگالیں کہ پاکستان کا جملہ قرض 106ارب ڈالر ہے‘ مطلب ویت نام جیسا ملک پاکستان کا قرض صرف 10ماہ موبائل فون بیچ کر اتار سکتا ہے اور آپ یہ بھی جان لیں کہ ہندوستان نے بھی موبائل مینوفیکچرنگ پلانٹ لگالئے ہیں اور وہ بھی 3ارب ڈالر کے فون امریکہ کو بیچ رہا ہے‘ بنگلہ دیش کی بھی امریکہ سے ڈیل ہوچکی ہے اور آپ یہ بھی نوٹ کر لیں کہ یہ ممالک ٹیکس تو چھوڑیں کارخانہ داروں کو10فیصد سبسڈی بھی دے رہے ہیں جبکہ ہم نے 30 لائسنس دے رکھے ہیں لیکن مہنگی بجلی‘ ٹیکسوں اور پیچیدہ طریقہ کار کے باعث سرمایہ کار آمادہ نہیں ہو رہے‘آپ بدقسمتی دیکھ لیں ہمارا شمار سوڈان ‘ تنزانیہ اور افغانستان جیسے ممالک میں ہو رہا ہے‘ ہم تباہ حال ممالک سے بھی پیچھے رہ گئے ہیں‘ ہم کہیں کے نہیں رہے لیکن پھر بھی ریت میں سردیئے بیٹھے ہیں۔

 

بشکریہ روزنامہ آج