وطن عزیز پاکستان میںغیر یقینی صورت حال سے سب پریشان ہیں ۔ملک میںسیاستدان دست وگریباں ہیں اور بار بار عدالتوں کے طواف کررہے ہیں۔سیاسی معاملات کو عدالتوں کی بجائے سیاست دان آپس میں حل کرتے تو وہ زیادہ بہتر ہوتا۔پی ڈی ایم نے فل کورٹ کا مطالبہ کیا تھا لیکن ان کے مطالبے کو مسترد کردیا گیا۔ پھر پی ڈی ایم نے سپریم کورٹ کا بائیکاٹ کیا اور نئی تاریخ رقم کردی ۔سپریم کورٹ بینچ نے ڈپٹی اسپیکر صوبائی اسمبلی کی رولنگ کے خلاف چودھری پرویز الٰہی کی درخواست منظور کی، چودھری شجاعت حسین کے خط کو خاطر میں نہیں لایا اور حمزہ شہباز کی چھٹی کردی۔یوں صوبہ پنجاب کی بھاگ دوڑچودھری پرویز الٰہی کے حوالے کردی ۔گورنر پنجاب بلیغ الرحمن نے چودھری پرویز الٰہی سے حلف لینے سے انکار کیا تو صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے ان سے رات گئے ایوان صدر میں حلف لیا۔چودھری پرویز الٰہی نے وزیراعلیٰ پنجاب کا قلمدان سنبھالا۔ صوبہ پنجاب پاکستان کا سب سے بڑا اوربارہ کروڑ آبادی کا صوبہ ہے،اس میں گذشتہ چارمہینوں سے غیریقینی صورت حال تھی بلکہ اس سے قبل چیئرمین پی ٹی آئی سابق وزیراعظم عمران خان نے چار سال قبل سردارعثمان احمدخان بزدار کو پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کا وزیراعلیٰ بنایا جس کا تجربہ ایک تحصیل سے زیادہ نہیں تھا ۔اس اعلان اور تعیناتی پر سب ششدر رہ گئے کیونکہ اتنے بڑے صوبے کا انتظام چلاناایک اناڑی کی بس کی بات نہ تھی جبکہ سابق وزیراعظم عمران خان کا منصوبہ پنجاب کے پسماندہ علاقے سے انتخاب تھا۔ان کا مقصد تھا کہ پسماندہ علاقے سے وزیراعلیٰ ہوگا تو پسماندہ علاقوں میں ترقیاتی منصوبے شروع ہونگے اور پسماندہ علاقے بھی ترقی کریں گے لیکن سابق وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان احمد خان بزدارتونسہ اور چند افراد تک محدود رہے۔ سابق وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان احمد خان بزدارنے عمران خان کے حلقہ انتخاب کے پسماندہ ترین علاقہ ٹولہ بانگی خیل، روغان، تبی سر، پتھو اور اوکلہ چنڈا جیسے علاقوں کو بالکل نظرانداز کیا،حتی کہ اس علاقے میںدورہ کرنا بھی گوارا نہیں کیا،حالانکہ اس علاقے میں انسان وحیوان ایک ہی جوہڑ سے پانی پیتے ہیں،99فی صد دیہات پختہ رابطہ سڑکوں سے محروم ہیں۔اگر کئی سلیب بنائے گئے تو وہ صرف چند افرادکو فائدہ پہنچانے کے لئے بنائے گئے لیکن اجتماعی آبادی کے منصوبے اور کارپٹ روڈ وغیرہ نظر نہیں آئیں گے۔ اس علاقے میں تحصیل ہیڈکوارٹر لیول کا ہسپتال بھی نہیں ہے ،نہ گرلزاور نہ ہی بوائز کالج ہے۔تعلیم وصحت کے اداروں کا فقدان ہے۔اس دور میں بھی اس علاقے میں موبائل فون سنگلز نہیں ہوتے ہیں۔سابق وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان احمد خان بزدار نے سالم انٹرچینج سے دائود خیل (میانوالی) موٹروے نہیں بنائی اور نہ میانوالی ملتان موٹروے بنائی حالانکہ یہ میانوالی ، بھکر، لیہ،مظفر گڑھ ملتان، خوشاب، سرگودھااور مضافاتی اضلاع کے عوام کا دیرینہ مطالبہ ہے ۔سابق وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان احمد خان بزدار نے سابق وزیراعظم عمران خان کو بھی اندھیرے میں رکھا اور شرافت کا لبادہ اوڑے اپنے اور مخصوص لوگوں کے کام کرتا رہا لیکن عمران خان کے حلقہ انتخاب کے عوام کو12واں کھلاڑی بنا کر میدان سے باہر رکھا حالانکہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان احمد خان بزدار کا حق تھا کہ وہ سب سے زیادہ توجہ عمران خان کے حلقہ انتخاب میں پسماندہ ترین علاقے کی طرف دیتا،سالم انٹرچینج سے دائود خیل (میانوالی) اور ملتان میانوالی موٹرویزبناتا لیکن انھوں نے ایسے نمایاں منصوبوں پر بالکل کام نہیں کیا۔ اگر پھر پاکستان کے دل لاہور کو دیکھیں تو اس کو بھی سابق وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان احمد خان بزدار نے کوئی توجہ نہیں دی حالانکہ حالیہ ضمنی الیکشن میںچار میں سے تین نشستیںپی ٹی آئی نے جیتیں۔لاہور میں 21کلومیٹر فیروز پور روڈ موضع گجومتہ میں گرین کیپ اور اس کے مضافات میں نہ بجلی، نہ گیس ، نہ پینے کا صاف پانی ، نہ پارک ، نہ سیوریج، نہ سرکاری سکول اور نہ ہی ہسپتال موجود ہے۔ اس علاقے میں ایک خیراتی ادارے نے بیٹھک نیٹ ورک کے نام سے سکول بنایا ہے،وہ سکول بھی بجلی وغیرہ سے محروم ہے۔ لوگوں کا کوئی پرسان حال نہیں ہے ۔ اس علاقے کو شہباز شریف اور حمزہ شہباز نے بھی نظرانداز کیا۔اسی طرح دیگر علاقوں میں بنیادی سہولیات کا فقدان ہے۔اس طرح ضلع اٹک میں مکھڈ شریف تاریخی مقام ہے لیکن اس کو ہمیشہ نظر انداز کیا گیا،وہاں کے مسائل حل نہیں کیے گئے ہیں۔انجرا سے مکھڈ شریف روڈ، ہسپتال، بوائز اور گرلزسکولزاپ گریڈیشن اور دیگر مسائل ترجیجی بنیادوں پر حل کرنابے حد ضروری ہیںجوکہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان احمد خان بزدارکے دور میں نہیں ہوئے۔ مدعا یہ ہے کہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان احمد خان بزدارکے دور میں ترقیاتی اور عوامی منصوبوں کی طرف توجہ نہیں دی گئی۔مسلم لیگ ن اور ان کے اتحادیوں کا بھلا ہو کہ ان کی غلطی کی وجہ سے پی ٹی آئی اور مسلم لیگ ق کو سہارا مل گیاورنہ گذشتہ چار سالوں میں پی ٹی آئی ، مسلم لیگ ق اوراتحادیوں کی کارکردگی منفی زیرو ہے۔ ملک کے قرضوں اور مہنگائی میں بے تحاشہ اضافہ ہو چکا ہے۔ملک مشکلات اور گرداب میں پھنس چکا ہے۔صوبہ پنجاب سب سے بڑا صوبہ ہے، وزیراعلی پنجاب چودھری پرویز الٰہی تجربہ کار اور زیرک سیاستدان ہیں،ان کو وزیراعلیٰ آفس اور ہائوس کے اخراجات کم کرنے چاہییں ،کچن پر کروڑوں روپے خرچ نہیں کرنے چاہییں اورعوامی مسائل کے حل کی طرف توجہ دینی چاہیے۔ وزیراعلی پنجاب چودھری پرویز الٰہی کو 21کلومیٹر فیروز پور گرین کیپ اور مضافاتی علاقہ، بیٹھک نیٹ ورک سکول،ضلع اٹک میں مکھڈ شریف اور ضلع میانوالی میں تبی سر، روغان ، ٹولہ بانگی خیل کا دورہ کرنا چاہیے اور ان کے مسائل ترجیجی بنیادوں پر حل کرنے چاہییں۔ سابق وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان احمد خان بزدارکے نقش قدم کی بجائے صوبہ پنجاب میں حقیقی تبدیلی لائیں اور لوگوں کے خلفشار کو ختم کریں۔
٭٭٭٭٭
317