پاکستان اس وقت جن بڑے بحرانوں سے گزر رہا ہے ان میں ایک بڑا بحران قیادت کے فقدان کا بھی ہے۔یہ معاملہ محض سیاسی سطح پر ہی نہیں بلکہ سماجی، معاشرتی اور مذہبی سطح پر بھی واضح طور پر محسوس کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چاروں طرف پھیلے ہوئے مسائل ، بے چینی اور اضطراب کے باوجود پاکستانی معاشرہ اور اس کے طبقات ایک دوسرے پر اعتبار کرنے کیلئے تیار نہیں بلکہ لوگ سمجھتے ہیں کہ یہاں کوئی فرد یا ادارہ موجود نہیں جو ان کی قیادت کرسکے۔ یہ بحران اس لئے بھی پیدا ہوا کہ ماضی میں موجود تمام جماعتوں نے اپنی اپنی سطح پر بد ترین نا اہلی، بد عنوانی اور کرپشن سمیت لوٹ کھسوٹ، بے اصولویوں اور وقتی مفادات کا بھر پور مظاہرہ کیا۔ قیادتوں کی اس ناکامی کے باعث ہمیں مجموعی طور پر معاشرے کے اندر فساد اور انتشار کا پہلو نمایاں نظر آتا ہے۔ آج تک جو قیادتیں ہم پر مسلط ہوئیں ہیں یا مسلط کی گئیں ہیںوہ عوامی اعتماد و تائید سے محروم ہیں۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ فساد اور انتشار کو روکنے والی قیادت ہی در حقیقت خود ہی انتشار اور فساد کا حصہ بن گئی ہے۔ دوسری طرف ہم اپنی قیادت پر نظر ڈالیں تو اس میں اخلاقی اور فکری انحطاط، سوچ و فکر کا فقدان نہ صرف نظر آتا ہے بلکہ یہ قیادت اپنے طرز عمل سے ملک میں طوائف الملوکی کا منظر بھی پیش کر رہی ہے۔موجودہ صورت حال میں لوگ قیادتوں سے مایوس نظر آتے ہیں اور ان کا ان قیادتوں کے ساتھ آگے بڑھنے اور ساتھ چلنے کا عمل عملاََ کمزور ہوگیا ہے۔ ماضی کی بڑی بڑی سیاسی تحریکیں اور عوام کا جم غفیر سکڑ کر اپنی بے بسی کی تصویر دکھا رہا ہے اور سیاسی قیادتیں عوام کی اس لا تعلقی سے پریشان ہیں۔ معروف دانشور اور سیاسی تجزیہ کار عبد الکریم عابد اپنی کتاب '' سیاسی و سماجی تجزیے '' میں شامل مضمون '' مسلم معاشرے میں اجتماعی قیادت کیوں نہیں ابھرتی؟ '' صفحہ نمبر 321 پر کچھ یوں رقمطراز ہیں :
'' مسلمان معاشروں کا ایک مسئلہ اس کے مختلف عناصر کے درمیان ذہنی اور مزاجی تضاد کا ہے اور یہ ان تضادات کا نتیجہ ہے کہ ان کے درمیان کوئی اجتماعی قیادت نظر نہیں آتی۔ قیادتوں کے نام پر ایسے گروہ اور جتھے پیدا ہوتے رہتے ہیں جو ایک دوسرے کے ساتھ افہام و تفہیم سے اور ہم قدم ہو کر نہیں چل سکتے۔ سب سے بڑی خرابی جس نے نا قابل تلافی نقصان پہنچایا ہے اور قیادت کے معیار میں عوام اور خواص کی پسند کو الگ کر دیا ہے، وہ یہ ہے کہ جسے عوام رہنما بناتے ہیں اسے خواص مسترد کرتے ہیں اور خواص کی جو پسند ہوتی ہے وہ عوام کو منظور نہیں ہوتی۔ اس طرح کے معاشرے کے دل اور دماغ میں ہم آہنگی کی بجائے نزاع کی کیفیت برپا رہتی ہے۔ اس کی وجہ سے خواص اپنی عوام سے اور عوام اپنے خواص سے مایوس ہوو جاتے ہیں۔''
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستانی معاشرہ میں قیادت کا بحران اور یہ دیوالیہ پن کیوں کر پیدا ہوا اور کیا وجہ ہے ماضی کی طرح آج کوئی مضبوط قیادت جس پر عوام کو بھر پور اعتماد ہو پیدا کیوں نہیں ہوتا؟ ماضی کی قیادت مختلف نظریات اور سوچ کے باوجود لوگوں میں ہر دلعزیز تھے اور ان میں باہمی تعلق بھی محبت اور اخلاص کا تھا۔ لوگ ان پر اعتماد کرتے تھے اور نہ ان پر کبھی بدعنوانی کے الزامات لگے، لیکن آج ک قیادت ماضی کی قیادت سے بالکل مختلف ہے۔ ان میں نہ تو علمی گہرائی ہے اور نہ نظریات سے پختہ وابستگی۔ ان لوگوں نے عقلی سیاست کے بجائے جذباتی سیاست کو فروغ دیا اور اس جذباتی سیاست کے پیچھے ان کی وقتی اور مفاداتی سیاست کارفرما ہے۔در اصل قیادت کا یہ بحران اس لئے بھی سامنے آیا کہ اب لوگوں کی نظروں میں وہ سب ہے جو بظاہر سامنے بھی ہے اور جو کھیل پردے کے پیچھے کھیلا جا رہا ہے وہ بھی کافی حد تک بے نقاب ہوگیا ہے۔لوگوں کو حیرانی ہے کہ ان کی سیاسی قیادتیں نہ صرف ان کا بری طرح استحصال کرتی ہیں بلکہ انھوں نے درپردہ عوام کے نام ہر سول اور فوجی اسٹیبلشمنٹ سے گٹھ جوڑ کرکے اپنی سیاست اور حکومت کو آگے بڑھایا ہے۔ہماری سیاسی قیادتوں نے صرف اورصرف اقتدار کی سیاست کو فروغ دیا اور انھیں اس سے کوئی سروکار نہیں ہے کہ یہ اقتدار کس قیمت پر وصول کیا جاتا ہے۔ہماری فوجی قیادتوں کو آئینی کردار ادا کرنے کا مشورہ دینے والے بھی بہت سے سول رہنما تھے۔ ملک کو محض فوجی آمریتوں کا سامنا نہیں رہا بلکہ سول اور سیاسی آمریتوں کی بھی ایک لمبی کہانی یہاں موجود ہے۔ جمہوری قیادت کے مقابلے میں شخصی قیادت اور شخصیت پرستی کو فروغ دیا گیا۔ لوگوں کی زبانوں پر تالہ بندی کی گئی اور جس نے بھی قیادت کے خلاف زبان کھولی تو اسے اس کی بھاری قیمت چکانی پڑی۔اخلاقیات سے عاری قیادتوں نے بے اصولیوں کے وہ ریکارڈ قائم کئے کہ ان پر کئی کتابیں لکھی جا سکتی ہیں۔
سیاسی قیادتوں کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ ان میں سے بیشتر کرپٹ اور بدعنوان ہیں۔ بد قسمتی سے اہل سیاست نے اپنے اندر ایسا کوئی احتسابی نظام قائم نہیں کیا جو ان کرپٹ افراد کی بد عنوانیوں کا راستہ روک سکے۔ سیاست کو کاروبار بنایا گیا ہے اور اس کا مقصد اپنے کاروبار کو وسعت دینا بن کر رہ گیا ہے۔ سیاسی قیادتوں نے مڈل کلاس طبقے کو آگے لانے کے بجائے کرپٹ اور بدعنوان مافیا سے گٹھ جوڑ کرلیا ہے اور اس طر ز عمل کی وجہ سے ہماری سیاست آج کرپٹ مافیا کے ہاتھوں یرغمال بن کر رہ گئی ہے۔ اسی طرح عوام کی طاقت تسلیم کرنے کے بجائے در پردہ قوتوں کی طاقت کو تسلیم کرتے ہوئے یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ طاقت کا سر چشمہ عوام نہیں بلکہ اسٹیبلشمنٹ ہے۔ یہی وجہ ہے سیاسی قیادتوں نے عوام کو منظم کرنے کے بجائے چور راستہ اختیار کیا اور انھیں یہ ڈر بھی رہا کہ اگر عوام کو منظم کیا گیا تو یہ عمل خود ان کیلئے بھی احتساب کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ اس لئے لوگوں کو منظم کرنے کے عمل سے راہ فرار اختیار کی گئی۔
یہ درست ہے کہ پاکستان میں ایک طویل عرسے تک فوج کی براہ راست حکمرانی رہی ہے اور اس حکمرانی نے سیاسی عمل کو کمزور کیا ہے۔ دراصل ایک اچھی سیاست کا ارتقا بھی اچھی جمہوریت اور اصول و نظریات کی سیاست سے وابستہ ہوتا ہے۔ جب معاشرے میں ہر سطح پر اخلاقی، سماجی، سیاسی اور معاشی گِراوٹ دیکھنے میں آئے تو پھر اچھی سیاسی قیادت کا پیدا ہونا بھی مشکل ہوجاتا ہے۔ ایسے معاشروں کے نصیب میں پھر ایسی قیادتیں مسلط ہوتی ہیں جو عملی طور پر قیادت کی حق دار نہیں ہوتیب اور نہ ہی وہ اس قابل ہوتے ہیں کہ لوگوں کی نمائندگی یا قیادت کا حق ادا کر سکے۔قیادت کا اصل امتحان شروع ہی بحرانوں کے اندر ہوتا ہے اور دیکھا جاتا ہے کہ وہ کس حکمت عملی کے تحت اپنے کام کو آگے بڑھاتی ہیں ۔
آپ پاکستان کے بحران کو دیکھیں اور جو قیادتیں گزشتہ 35 یا 40 برسوں سے ہم پر قابض رہی ہیں اور جو آج بھی قابض ہیں انھوں نے قیادت کے تناظر میں جو کردار ادا کیا ، اس میں قومی مفادات کے معاملات پر کہاں تک مزاحمت دکھائی گئی۔ نواز شریف ہو ، زرداری ہو یا بے نظیر بھٹو تھی ان کی ساری سیاست امریکہ اور اسٹیبلشمنٹ کے گرد گھومتی رہی ہے اور اس میں قومی مفادات بہت پیچھے رہ گئے ۔ آج کی دنیا میں جو ہمیں بڑے بڑے چیلنجز ہیں ، ان سے نبردآزما ہونا ایک مضبوط قیادت کی موجودگی کے بغیر ممکن نہیں اور جو قیادتیں آج یہاںموجود ہیں، ان سے یہ توقع رکھنا کہ وہ کوئی بڑا کردار ادا کر سکیں گی ، فی الحال نا ممکن لگتا ہے۔
364