555

*یوم عشق رسول صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم*

محبت ایک طاقتور انسانی جذبہ ہے ایک ایسی قوت ہے جو کسی زندگی کو آباد بھی کرسکتی ہے اور برباد بھی کر سکتی ہے دل جوڑ بھی دیتی ہے اور دل توڑ بھی دیتی ہے
جو محبت دلوں کو آباد کرتی ہے اور دلوں کو جوڑتی ہے وہ اللہ اور اسکے رسول کی محبت ہے اور جو محبت برباد کرتی ہے ذلیل ورسوا کرتی ہے وہ فانی اشیاء کی محبت ہے نامحرموں کی محبت ہے
جس محبت و عشق کے بل بوتے پر مسلمانوں نے پوری دنیا پر اسلامکی حکمرانی کے جھنڈے لہرا دیے
جس محبت کی وجہ سے حضرت بلال نے دہکتے انگاروں پر بھی کلمہ توحید نہ چھوڑا
جس محبت کی وجہ سے صدیق اکبر نے اپنا سارا مال حضور علیہ السلام کی بارگاہ میں پیش کردیا
جس محبت کے لیے امام حسین نے اپنا سارا کنبہ أللہ کے راستے میں قربان کردیا
وہ محبت کیا تھی?
وہ اللہ رسول کی محبت تھی ان پاک نفوس نے محبت کے دعووں پر پورا اتر کر دکھایا اللہ رسول کی رضا کی خاطر ہر نفسانی خواہشات کو پس پشت ڈال دیا  اور راہ محبت میس ہر قسم کی تکلیفیں برداشت کر کہ یہ ثابت کیا بقول امام احمد رضا
*جان ہے عشق مصطفی روز فزوں کرے خدا*
*جسکو ہو درد کا مزہ وہ ناز دوا اٹھاۓ کیوں*
عشق رسول ہی وہ واحد نسخہ  کیمیا ہے جسکی وجہ سے امت اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کر سکتی ہے اپنے معاملات کو سدھار سکتی ہے اپنے اندر سے الحادی قوتوں کے اثر کو زاٸل کر سکتی ہے سب بل نکال سکتی ہے بقول اقبال
*اقبال تیرے عشق نے سب بل دیے نکال*
*مدت سے آرزو تھی کہ سیدھا کرے کوٸی,*

لیکن افسوس کہ دور حاضر میں محبت کو ویلنٹاٸن ڈے جیسے غیر اسلامی تہوار منا کر بدنام کیا جا رہا ہے عالم کفر اپنی چال چل چکا ہے اب وہ اس اسلام مخالف تہوار سے جہاں لاکھوں ڈالر کما رہا ہے وہیں مسلمان نوجوانوں کے کی زندگیوں سے حیا جیسی صفت کو ختم کر رہا ہے1990 میں امریکہ میں ایک ارب ویلنٹاٸن کارڈز بھیجے گٸے محکمہ ڈاک کو تیس میلین ڈالرز کا فاٸدہ ہوا
یہ مرض اب پاکستان میں بھی بڑھتا جا رہا ہے ویلنٹاٸن ڈے کو یہودو نصاری تجارتی مقاصد کیے لیے استعمال کرتے ہیں نوجوانوں کے دلوں میں جذبات کی آگ کو بھڑکا کر کسی خاص محبوب کی ضرورت کا احساس دلاتے ہیں
2012 میں ایک اخبار میں ایک  خبر چھپی تھی کہ ایک خاتون اپنے شوہر سے طلاق صرف اس بات پر مانگ رہی کہ اس نے بیوی کو اس دن کوٸی تحفہ نہیں دیا
یوم ویلنٹاٸن نے اس عورت کو محبت کی بجاے محبت سے محرومی کے احساس میں مبتلا کر دیا
یار یہ کیسی محبت ہے جسکی بقا تحفوں پر منحصر ہے?
یہ کیسی محبت ہے جو سارے سال میں صرف ایک دن تک محدودرہتی ہے ?
یہ کیسی محبت ہے جو نفرت جلن اور احساس کمتری پیدا کرتی ہے? 
اس دن سرخ کپڑے پہننا
تحاٸف کا تبادلہ چاکلیٹس اور پھول وغیرہ
یہ عام ہوتا جا رہا ہے بظاہر یہ بے ضرر نظر آنے والی چیزیں جنسی آزادی اور لڑکے لڑکیوں کے آزادانہ تعلق کو عام کر رہی ہیں عشق و محبت ک اس سارے خبط میں
اسلام کو پس پشت ڈال دیا جاتا ہے اسلامی تعیمات کا سر عام مذاق اڑایا جا رہا ہے
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم یہ دن کیوں مناتے ہیں?
کیا یہ ہمارا قومی تہوار یا دینی تہوار ہے?
تہوار قوموں کی پہچان ہوتے ہیں دین اور ثقافت کی علامت ہوتے ہیں
اس روز جب دنیا محبت کا دن مناتی ہے طرح طرح کے دل ہمارے ارد گرد نظر آتے ہیں
*اپنےآپ سے پوچھیۓ** کہ کیا میں نے اس ہستی سے محبت کرنے کے بارے میں سوچا ہے جس نے مجھے پیدا کیا?
کیا ایسے جذبات کبھی اس ہستی کیلیے بھی دل میں پیدا ہوۓ جس نے وہ دل عطا کیا جو محبت کو محسوس کر سکتا ہے?
*اپنے آپ سے پوچھیۓ*
کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ وہ جذبہ محبت جو ہمیشہ اللہ رسول اور والدین اور حلال رشتوں کیلیے ہمیشہ قاٸم رہنا چاہیے تھا میں اسکو نفس کی وقتی تسکین کی خاطر ضاٸع تو نہیں کر رہا?
ہماری محبت ہمارے ایمان کی کسوٹی ہے
*اپنے آپ سے یہ سوال بھی ضرور کیجیے*
کہ کیا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہوں
جنھوں نے فرمایا تھا کہ
*قسم ہے اس ذات کی جسکے قبضہ قدرت میں میری جان ہے تم میں سے کوٸی اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ مجھ سے اپنے باپ اپنی اولاد اور تمام انسانوں سے زیادہ محبت نہ کرے*
اگر محبت کرتے ہیں تو پھر کیا ہم محبوب کی اداوں کو بھی اپناتے ہیں?
*ذرا سوچیے*
عشق رسول کے دعویدار آخر کس روش پہ چل نکلے ہیں?
ناموس رسالت کے رکھوالے دن بدن فرنگی تہذیب کی بد تہذیبی میں  کیوں رنگتے چلے جا رہے ہیں?
لوگ شان رسالت میں گستاخیاں گستاخیاں کرتے ہیں ہم انہیں کے متوالے کیوں بنتے جا رہے ہیں?
اسلام کی بیٹیوں نے حیا کی چادر کیوں اتار پھینکی ?
نوجوانان اسلام کی نگاہوں سے حیا کیوں رخصت ہو گٸی ?
اس صورت حال پر اقبال بھی غمگین نظر آتے ہیں اور فرماتے ہیں
*دل سوز سے خالی ہے نگاہ پاک نہیں ہے*
*پھر اس میں عجب کیا کہ تو بے باک نہیں ہے*
کیا یہی ہے ہماری محبت ؟

کیا عاشق صادق بھی محبوب کی راہوں پر چلنے سے شرماتا ہے؟
نہیں نہیں ہرگز نہیں
ارے یہی راہیں تو اس کےلیے سرمایہ حیات ہیں
لہذا ہوش میں آٸیں
گفتار کے نہیں کردار کے غازی بن کر دکھاٸیں غیروں کی محبت دل سے نکالیں اور اس ذات کی حقیقی محبت دل میں بساٸیے جس کے نور نے دنیا کے اندھیروں میں اجالا کر دیا
*خاک ہو کر عشق میں آرام سے سونا ملا*
*جان کی اکسیر ہے الفت رسول اللہ کی*
خود کی خودی کو پہچانو دوسروں کو مت دیکھو اپنا احتساب خود کرو کیونکہ تمھیں خود اپنا حساب دینا ہے اپنی کتاب خود پڑھنی ہے اپنا اعمال نامہ اپنے ہاتھ میں لینا ہے ادھر ادھر کی باتیں چھوڑو اپنی بات کرو اپنے مولی سے دل لگاو اپنے نبی سے محبت کرو انہیں پہ بھروسہ کرو وہی اپنی کشتی پار لگانے والے ہیں وہی آقا ہیں وہی داتا ہیں انہیں سے سب ہے
انہیں کا سب ہے 
بقول امام احمد رضا
*انہیں کی بو مایہ سمن ہے انہیں کا جلوہ چمن چمن ہے*
*انہیں سے گلشن مہک رہے ہیں انہیں کی رنگت گلاب میں ہے*

اور بقول علامہ اقبال
*کی محمد سے وفا تونے تو ہم تیرے ہیں*
*یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں

بشکریہ اردو کالمز