قادر خان یوسف زئی پاکستان کی سرزمین، جو اپنی قدرتی خوبصورتی کے باعث دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے ایک خوابیدہ منزل سمجھی جاتی ہے، آج کل ایک ایسی دلخراش حقیقت کا آئینہ بن رہی ہے جو ہر پاکستانی کے دل کو چھلنی کر دیتی ہے۔ بلند و بالا چوٹیاں، سرسبز وادیاں، نیلگوں جھیلوں اور بہتے دریاؤں کا یہ خطہ، جو کبھی خوشیوں اور سکون کا ٹھکانہ تھا، اب بار بار غفلت، لاپرواہی اور حکومتی عدم توجہی کی وجہ سے موت کی وادی بنتا جا رہا ہے۔ سوات کا حالیہ سانحہ، جہاں 28 جون 2025 کو ایک ہی خاندان کے 18 افراد دریائے سوات کے بے رحم سیلابی ریلے کی نذر ہو گئے، اس امر کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ ہم اپنی اس جنت نظیر سرزمین کو کس قدر سستے داموں کھو رہے ہیں۔ گلگت بلتستان سے لے کر خیبر پختونخوا تک، سیاحتی مقامات پر حادثات کی یہ داستان کوئی نئی نہیں، بلکہ ایک ایسی تلخ حقیقت ہے جس پر ہمارے حکمرانوں نے کبھی سنجیدگی سے غور نہیں کیا۔ سوات، جو کبھی ''ایشیا کا سوئٹزرلینڈ'' کہلاتا تھا، آج ایک ایسی جگہ بن چکا ہے جہاں خوشیوں کی تلاش میں آنے والے سیاح موت کی آغوش میں چلے جاتے ہیں۔ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ 2010 کے سیلابوں نے سوات میں 150 سے زائد جانیں لیں، 2014 میں 32 افراد اسی طرح کے ایک سیلابی ریلے کی نذر ہوئے، اور 2022 میں 45 افراد ہلاک ہوئے۔ یہ ایک بار کا حادثہ نہیں، بلکہ ایک تسلسل ہے جو حکومتیعدم توجہی کی وجہ سے جاری ہے۔ یہ صرف سوات کی کہانی نہیں۔ گلگت بلتستان، جو اپنی دلفریب وادیوں، جھیلوں اور پہاڑوں کی وجہ سے سیاحوں کی جنت کہلاتا ہے، وہاں بھی خطرناک سیاحتی مقامات جیسے فیری میڈوز اور حسینی پل ہر سال سیاحوں کی جانوں کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔ فیری میڈوز، جس کا جیپ ٹریک دنیا کا دوسرا خطرناک ٹریک سمجھا جاتا ہے، ہر سال سیاحوں کے لیے ایک خوفناک چیلنج بنتا ہے۔ تنگ، کچی اور پتھریلی سڑک، جہاں ایک چھوٹی سی غلطی موت کا سبب بن سکتی ہے، سیاحوں کے لیے ایک ڈراؤنا خواب ہے۔ اس ٹریک پر ہر سال اوسطاً 5 سے 7 حادثات ہوتے ہیں، جن میں سے کچھ جان لیوا ثابت ہوتے ہیں۔حکومتی غفلت اس ساری صورتحال کا اصل سبب ہے۔ سوات کے حالیہ سانحے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں ایک سیاح نے انکشاف کیا کہ متاثرہ خاندان نے خطرے سے کئی بار انتظامیہ کو آگاہ کیا گیا تھا، مگر انتظامیہ نے کوئی ایکشن نہیں لیا۔ یہ بات دل کو چھو جاتی ہے کہ ہمارے اداروں کی بے حسی کس قدر گہری ہے۔وادی سوات میں دریائے سوات کے کنارے غیر قانونی دکانیں، ہوٹلز اور کیمپنگ سائٹس، جو مقامی لوگوں کی معاشی مجبوریوں کی وجہ سے قائم ہیں، ہر سال سیلاب کی زد میں آتی ہیں۔ سول سوسائٹی نے ان غیر قانونی تعمیرات کے خلاف ایکشن کا مطالبہ کیا، لیکن انتظامیہ کی خاموشی معنی خیز ہے۔ کیا یہ محض غفلت ہے، یا اس کے پیچھے کوئی بڑا گٹھ جوڑ کام کر رہا ہے؟ گلگت بلتستان میں بھی صورتحال مختلف نہیں۔ سیاحت کے شعبے کو فروغ دینے کے دعوے تو بہت کیے جاتے ہیں۔ 2010 میں لونلی پلانیٹ نے پاکستان کو سیاحت کا ''اگلا بڑا مقام'' قرار دیا تھا، اور 2020 میں سی این این ٹریولر نے اسے دنیا کے بہترین سیاحتی مقامات میں شامل کیا۔ 2023 کے اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان میں سیاحت میں 300 فیصد اضافہ ہوا، اور ہر سال تقریباً 20 لاکھ سیاح گلگت بلتستان اور سوات جیسے علاقوں کا رخ کرتے ہیں۔ لیکن کیا ہم نے اس شہرت کو سنبھالنے کے لیے کچھ کیا؟ 2005 کے زلزلے نے کاغان ویلی کی خوبصورتی کو شدید نقصان پہنچایا، سیاحت میں اضافے کے دعوے تو کیے جاتے ہیں، مگر حفاظتی اقدامات، بنیادی ڈھانچے اور عوامی آگہی پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی۔ سڑکوں کی خستہ حالی، پبلک ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی، اور ہنگامی حالات کے لیے ریسکیو سسٹم کا فقدان سیاحوں کے لیے مشکلات کا باعث بنتا ہے۔ سوات میں حالیہ سانحے کے بعد سوشل میڈیا پر شوبز شخصیات نے سوال اٹھایا کہ جب کرکٹ گراؤنڈز کے لیے ہیلی کاپٹر دستیاب ہو سکتے ہیں، تو ریسکیو آپریشنز کے لیے کیوں نہیں؟ یہ سوال ہر پاکستانی کے دل کی آواز ہے۔ مقامی لوگوں کی بے بسی بھی اس ساری کہانی کا ایک اہم حصہ ہے۔ سوات اور گلگت بلتستان کے رہائشی سیاحت پر انحصار کرتے ہیں۔ ان کے لیے یہ روزگار کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔ مگر جب غیر قانونی تعمیرات اور ناقص حفاظتی انتظامات کی وجہ سے حادثات ہوتے ہیں، تو اس کا الزام بھی انہی پر ڈال دیا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مقامی لوگ بھی حکومتی پالیسیوں کے رحم و کرم پر ہیں۔ اگر انتظامیہ غیر قانونی تعمیرات کو روکے، مناسب رہنمائی فراہم کرے، اور ہنگامی حالات کے لیے تیار رہے، تو شاید یہ سانحات کم ہو سکتے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے، ہمارے ہاں ہر چیز کو ''چلتا ہے'' کے رویے کے ساتھ نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ سوات جیسے سیاحتی مقامات سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔ اس کے باوجود، نہ تو سیلاب سے بچاؤ کے لیے کوئی ٹھوس منصوبہ بنایا گیا، اور نہ ہی سیاحوں کو آگہی دینے کے لیے کوئی مہم چلائی گئی۔ گلگت بلتستان میں، جہاں ہر سال لاکھوں سیاح آتے ہیں، بنیادی ڈھانچے کی کمی کی وجہ سے حادثات کا خطرہ ہر وقت منڈلاتا رہتا ہے۔گلگت بلتستان دنیا کے 20 بہترین سیاحتی مقامات میں شامل ہے، مگر اس کے باوجود وہاں حفاظتی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ سیاحت کے فروغ کے دعوے کرنے سے پہلے، ہمیں اپنے سیاحتی مقامات کو محفوظ بنانا ہوگا۔ سڑکوں کی تعمیر، ریسکیو سسٹم کا قیام، اور عوامی آگہی مہمات شروع کرنا ہوں گی۔ مقامی لوگوں کو سیاحت کے فوائد میں شامل کرنا ہوگا، تاکہ وہ بھی اپنے وسائل کے تحفظ کے لیے کردار ادا کر سکیں۔یہ صرف ایک حادثہ نہیں، بلکہ ہماری اجتماعی بے حسی اور غفلت کا نتیجہ ہے۔ کیا ہم اس بار بھی خاموش رہیں گے؟ کیا ہم ایک بار پھر چند معاوضوں اور معطلیوں پر اکتفا کر لیں گے؟ یا پھر ہم اس بار ٹھوس اقدامات اٹھائیں گے؟ ۔
اشتہار
مقبول خبریں
ایچ ای سی میں 100 دن
مہمان کالم
مہمان کالم
خاموش فریادیں، ان سنی کہانیاں!
مہمان کالم
مہمان کالم
معرکۂ حق اور قوم
مہمان کالم
مہمان کالم
کہتا ہوں سچ کہ جھوٹ کی عادت نہیں مجھے
مہمان کالم
مہمان کالم
سوالات کا فن!
مہمان کالم
مہمان کالم
ڈیجیٹل حکومت اور تنہا انسان
مہمان کالم
مہمان کالم
ریلوے اصلاحات اور ڈیجیٹلائزیشن
مہمان کالم
مہمان کالم
خود سے ملاقات
مہمان کالم
مہمان کالم
