احمد اویس کی خوفناک باتیں 138

احمد اویس کی خوفناک باتیں

بھادوں کی انتہائی تاریک رات، ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دے رہا۔ گہرے اندھیرے میں ہر قدم پر ٹھوکر، کبھی چوکھٹ پکڑ کر اور کبھی دیوار پکڑ کے سنبھلنے کی کاوشِ ناکام مگر رکے نہیں، اس سمت رواں دواں ہیں جہاں چراغ کے ہونے کا امکان ہے۔ سابق ایڈوکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس سے کل ملاقات ہوئی تو میں پلکیں جھپکنا بھول گیا۔ بار بار چلتے ہوئے رک جانا پڑا کہ سامنے ہزاروں میل گہری ڈھلوان دکھائی دی اور اپنے پاؤں سیلن زدہ پھسلن پرنہیں جم رہے تھے۔ پہلی باراتنی گمبھیرتا کا احساس ہوا۔ پہلی بار لگا کہ ہم کسی خوفناک موڑ پر کھڑے ہیں ذرا سی غلطی کسی بہت بڑی تباہی کا سبب بن سکتی ہے۔ انیس سو اکہتر کے ساتھ دو ہزار تیئس کی مماثلتیں بہت خطرناک ہیں۔ میں سوچتا رہا کہ ایسی صورتحال پیدا کرنے والے کیا چاہتے ہیں۔ صرف یہی کہ عمران خان اپنے رویے میں لچک دکھائیں۔

مسئلہ صرف اتنا ہے کہ وہ جن کے متعلق عمران خان کو یقین ہو چلا ہے کہ یہ چور ہیں ڈاکو ہیں، ملک و قوم کی بربادی کا سبب ہیں، ان کے اقتدار کو تسلیم کرلیں، ختم شدہ مقدمات پھربحال نہ کرنے کی یقین دہانی کرائیں۔ پھر وہ الیکشن لڑالیں گے۔ دل پر پتھر رکھ کر۔ کیونکہ ان کے نزدیک الیکشن کرانے کا مطلب یہ ہے کہ حکومت عمران خان کے حوالے کرنا۔ بے شک اس وقت اسی پچاسی فیصد لوگ عمران خان کے ساتھ ہیں اور ان میں روزانہ نو ہزار نوجوانوں کا اضافہ ہوتاہے۔ نادرا کے دفاتر سے روزانہ نو ہزار نئے شناختی کارڈ ایشو ہوتے ہیں اور شناختی کارڈ کا حامل ہر نوجوان ووٹ دینے کا اہل ہے۔ دوسری طرف وہ عمران خان ہیں جنہیں ابھی بلیک میل نہیں کیا جا سکا۔ مقدمات بھری گالیوں سے لے کر سنسناتی ہوئی گولیوں تک،کوئی بھی چیزان کے پائے استقامت کو لغزش آشنا نہیں کر سکی۔احمد اویس کی آنکھیں کھولنے والی ایک بات یاد آ رہی ہے کہ پہلے مارشل لا لگا کر آئین ِ پاکستان کی دھجیاں اڑائی جاتی تھیں مگر اڑانے والوں کو پھر بھگتنا پڑتا تھا۔ اب نیا طریقہ کار نکال لیا گیا ہے۔ وہ جن ہاتھوں پر جرائم کے داغ دھبے لگے تھے۔ انہیں ڈرائی کلین کرایا گیا اور پھر انہی ہاتھوں کو آئین و قانون کی دھجیاں بکھیرنے کا فریضہ سونپ دیا گیا۔ طاقت کی ذہنی کیفیت وہی ہے جو ہزاروں سال سے چلی آ رہی ہے۔ اپنے جنرل ضیا الحق جیسی، جنہوں نے کہا تھا کہ آئین قرآن نہیں جسے پھاڑا، نہ پھینکا جا سکے۔ اس آئین کے تقدس پر پھر کاری ضرب لگائی جا رہی ہے۔ اس مقصد کیلئے سب سے پہلا نشانہ سپریم کورٹ کو بنایا گیا ہے کہ یہ ادارہ آئین ِ پاکستان کا محافظ ہے۔ اللہ تعالی جسٹس قاضی عیسی اور جسٹس اطہر من اللہ کی آنکھیں کھولے۔ قوم کو ان سے بڑی امیدیں تھیں مگر وہ غالباً اپنے خلاف ہونے والی سازش کو بھانپ نہیں سکے اور اپنے اوپر خود آپ وار کر لیا۔ اسی سلسلے میں حکومت کا ساتھ دینے کیلئے پاکستان بار کونسل کے ایک گروپ کی طرف سے سپریم کورٹ کے خلاف ہڑتال کی کال دی گئی ہے جو تقریباً ناکام ہوئی ہے۔ آج عدالتوں میں کافی تعدادمیں وکلا موجود تھے۔

یہ کتنی حیرت انگیز بات ہے کہ وکلا جو آئین اور قانون کی جنگ لڑتے چلے آ رہے ہیں۔ کچھ لوگ انہی کو سپریم کورٹ کے خلاف میدان میں لانے کی کوشش میں ہیں۔ اگرچہ ان کی کامیابی ممکن نہیں مگر انہیں یہ خوف بھی ہے کہ جس طرح جسٹس افتخار چوہدری کے حق میں وکلا اور قوم نے تحریک شروع کی تھی وہ پھر شروع نہ ہو جائے۔ اعتزاز احسن نے تحریک کا اعلان کر دیا ہے۔ پچھلی تحریک انہوں نے ہی چلائی تھی۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام آئین بچاؤ مہم شروع کرنے کا جاری کر دیا ہے کہ آج سے عوام اور وکلا اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھا کر روزانہ گیارہ بجے سپریم کورٹ کے باہر جمع ہونگے اور نعرے لگائیں گے کہ چیف تیرے جانثار۔ بے شمار۔ اس کے ساتھ ملک کے نامور وکلا نے پندرہ تاریخ کو گول میز کانفرنس بھی بلالی ہے۔ جس میں توقع ظاہر کی جارہی ہے کہ اس میں باقاعدہ تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا جائے گا۔ اس کانفرنس کے میزبان لطیف کھوسہ، اعتزاز احسن اور خواجہ طارق رحیم ہونگے۔ سپریم کورٹ کے حوالے سے مسلم لیگ نون کی تاریخ پہلے بھی خاصی داغدار ہے۔ سپریم کورٹ پر حملے کی کہانی اب کتابوں سے نکالی نہیں جا سکتی۔ اس مرتبہ دیکھتے ہیں کہ کون کونسی پارٹی نون لیگ کےساتھ کتنی دیر کھڑی رہتی ہے۔ میری معلومات کے مطابق تیرہ میں صرف چند پارٹیاں اس جنگ میں نون لیگ کی ہم رکاب ہیں۔ باقی تمام سپریم کورٹ کو یقین دہانی کرا رہی ہیں کہ ہم اس معاملہ میں حصہ دار نہیں جب کہ سپریم کورٹ نے یہ یقین دہانی تحریری صورت میں مانگی ہے۔ دو طرح کے واضح امکان موجود ہیں۔ پہلا یہ کہ الیکشن کے فنڈ فراہم نہ کرنے کی ذمہ داری بیورو کریٹس اگر وزیر اعظم شہباز شریف پر ڈالیں تو وہ نااہل ہوتے ہیں۔ دوسرا اگر بیوروکرٹیس یہ ذمہ داری خود اٹھاتے ہیں اور اپنی قربانی پیش کرتے ہیں تو معاملہ تھوڑا بہت مختلف ہو جاتا مگر مجھے نہیں لگتا کہ بیوروکریسی شہباز شریف کی جگہ قربانی دے گی۔ اگر یہ قربانی دی جا سکتی ہوتی تو یوسف رضا گیلانی اپنی جگہ کسی سیکرٹری وغیرہ کو پیش کر کے خود نا اہل ہونے سے بچ گئے ہوتے۔میرا ذاتی خیال ہے کہ سپریم کورٹ شہباز شریف کو نا اہل کرنے کی بجائے پوری کوشش کرے گی کہ آئین شکنی نہ ہو اور انتخابات ہو جائیں۔

بشکریہ انڈپینڈنٹ نیوز